اللہ و رسول کی توہین پر بے حسی اور پیر کی توہین پر حساسیت کا حکم
(1) زید کہتا ہے کہ اگر کوئی اللہ اور اس کے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم اور سرکار غوث پاک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو گالی دے، کوئی پرواہ نہیں لیکن اگر کوئی شخص میرے پیر کو گالی دے تو زندگی بھر اس شخص کو نہیں معاف کروں گا اور نہ بولوں گا۔ ایسے مرید کے بارے میں مفتیان کرام کیا فرماتے ہیں؟
الجواب: (۱) زید بے قید کا خط کشیدہ جملہ سخت ہولناک ہے اس پر اس بات سے تو بہ وتجدید ایمان فرض ہے اور اگر بیوی رکھتا ہے تو تجدید نکاح بھی فرض ہے۔ جب تک تو بہ صحیحہ شرعیہ کے بعد داخل اسلام نہ ہو ہر مسلم واقف حال پر اس سے اجتناب فرض ہے۔ (۲) خط کشیدہ جملہ کفر صریح ہے۔ زید پر اس سے تو بہ و تجدید ایمان فرض ہے۔ اور شادی شدہ ہے تو تجدید نکاح بھی ضروری ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) زید غلط کہتا ہے۔ مروجہ تعزیہ داری شرعا نا جائز بلکہ مجموعہ تعزیہ داری از محرمات ہے۔ تفصیل کے لئے اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کا رسالہ تعزیہ داری ملاحظہ ہو۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۴) جاندار کی تصویر شرعا حرام ہے۔ حدیث میں ہے: (1) اشد الناس عذابا عند الله المصورون (1) سب سے زیادہ عذاب کے مستحق حکم الہی میں وہ ہیں جوفوٹو ذی روح کا کھینچتے کھنچواتے ہیں۔ مشکوة شريف، ص ۳۸۵، باب التصاویر مجلس برکات مبارکپور اعظم گره اور تبلیغ کے لئے حرام کو ذریعہ بنانا حرام ہے تبلیغ دین کچھ اس پر منحصر نہیں کہ ویڈیو پر علماء ومشائخ وغیر ہم کی تصویر میں اتاری جائیں بلکہ یہ سرے سے تبلیغ دین ہی نہیں، یہ دین کو تماشا بناتا ہے۔ جونری تصویر کشی سے زیادہ سخت ہے۔ ہم نے خود اعلیٰ حضرت کے کلمات سے ثابت کیا ہے کہ اس مقصد کے لئے بھی ویڈیو کا استعمال ہرگز جائز نہیں۔ ہمارا رسالہ ٹی۔وی۔ ویڈیو کا آپریشن دیکھئے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۵) مسلک اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ سے عرف عام میں عقائد اہل سنت و جماعت مراد ہوتے ہیں تعارف و تمیز کے لئے ان کو مسلک اعلیٰ حضرت کہتے ہیں ان عقائد حقہ کا مخالف سنی مسلمان ہی نہیں، پیر ہونا بڑی بات ہے۔ وہ اس قول کا مصداق نہیں اور اس کے متعلق ایسا کہنا منافی ایمان ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (1) زید پر لازم ہے کہ وہ اپنے دعویٰ کا ثبوت دے۔ وہ اگر قابل قبول ثبوت پیش کر دے تو خیر ورنہ سخت ملزم ہے۔ پھر اگر اس دعوئی کا کوئی صحیح حمل ہو جب بھی عوام کے سامنے اس طرح کے کلمات بولنا ہرگز روا نہیں کہ وہ اس سے باجوں کی اباحت اور ان کا جواز سمجھیں گے اور گمراہ ہوں گے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۷) زید صحیح کہتا ہے۔ سچا پیر مرتبہ میں ماں باپ سے افضل ہے کہ وہ مربی روح ہے اور روح بدن سے افضل ہے سچا پیر اللہ تک وصول کا ذریعہ اور اللہ ورسول جل وعلا وصلی اللہ علیہ وآلہ وصحبہ وسلم کا خلیفہ و نائب ہوتا ہے۔لہذا اس منصب کے لحاظ سے وہ ماں باپ سے ضرور افضل ہوا۔ تفصیل کے لئے ذیل المدعا حاشیہ احسن الوعا مصنفہ سر کا راعلیٰ حضرت دیکھئے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۸) نماز میں حق تعالی کی طرف توجہ رکھے پیر کا تصور کرنے کا حکم نہیں ہے۔ زید کو اس سے احتراز چاہئے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۹) زید کو ایسا کہنا نہ چاہئے تھا۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله