درزی کی ملکیت، جمعہ کی نیت اور دیہات میں جمعہ و ظہر احتیاطی سے متعلق مختلف سوالات
نہ معلوم درزی نے کس کے کپڑے کی گوٹ لگادی ہے؟ درزی سے عمرو نے جا کر کہا کہ میری ٹوپی میں کس کے کپڑے کی گوٹ لگائی ہے؟ کپڑے والے سے تم نے معلوم کر لیا؟ تو درزی نے جواب دیا میں اس کپڑے کا مالک ہوں، تم کو اس سے کیا بحث ہے؟ جب کپڑا میرے پاس ہے تو میں مالک ہوں ۔ بکر کہتا ہے درزی کے کہنے کا کیا ہے، سب درزی ایسا ہی کرتے ہیں کہ کسی کا کپڑا بچا تو اس کی گوٹ لگادی یا کسی کی جیب لگا دی۔ لہذا گزارش یہ ہے کہ عمر و اس ٹوپی سے نماز پڑھا سکتا ہے یا نہیں؟ نماز صحیح ہو جائے گی یا نہیں؟ اور اس درزی کے یہاں کھانا کھانے سے تو نماز روزہ میں کچھ خلل نہیں آتا ہے؟ یا آتا ہے؟ بینوا توجروا۔ (۲) جمعہ کی نیت کس طرح ہونی چاہئے؟ امام کی اور مقتدی کی ، شہر میں جمعہ جائز ہے؟ آدمی اگر شہر میں جمعہ ادا کر لے تو اس کا ذمہ ادا ہو جائے گا یا نہیں؟ اور اگر دیہات میں جمعہ پڑے تو اس کے ذمہ سے ظہر ادا ہو گا یا نہیں؟ اگر نہیں ہوگا تو کیا کرے؟ وہ ظہر احتیاطی پڑھے یا نہیں؟ سب کو تو اس بات کا علم نہیں ہے کہ جمعہ گاؤں میں نہیں ہے، جسے علم ہو تو وہ کیا کرے؟ اور جسے علم نہ ہوتو وہ کیا کرے؟ جسے جمعہ نہ ہونے کا علم نہ ہو اور جمعہ پڑھے تو اس کے ذمہ سے ظہر ادا ہوگی یا نہیں؟ گاؤں میں وقت جمعہ کا نام لے یا ظہر کا اور میں نیت اس طرح کرتا ہوں جمعہ کی نیت کرتا ہوں دو رکعت نماز جمعہ فرض واسطے اللہ تعالیٰ کے وقت جمعہ منہ میرا کعبہ شریف کو پیچھے اس امام کے ظہر احتیاطی کی نیت اس طرح کرتا ہوں نیت کرتا ہوں نماز کے واسطے نماز پڑھتا ہوں واسطے اللہ تعالیٰ کے چار رکعت نماز ظہر فرض سب میں پچھلی جس کا وقت میں نے پایا اور نہ پڑھی میں نے جو اپنی نیت کا طریقہ لکھا ہے جمعہ کی یا ظہر احتیاطی کا یہ طریقہ صحیح ہے یا نہیں؟ (۳) بہار شریعت میں جو لکھا ہے کہ خاص لوگوں کے لئے ہے جس کو فرض جمعہ ادا ہونے میں شک نہ ہو جب شک نہیں ہے تو جمعہ ادا ہو گیا پھر ظہر احتیاطی کی کیا ضرورت ہے؟ اور جب شک ہو تو ظہر احتیاطی پڑھے، اس کا کیا مطلب ہے؟ میری سمجھ میں نہیں آیا ، جواب صحیح مرحمت فرمائیں۔ بینوا توجروا (۴) نظام شریعت، احکام شریعت، بہار شریعت وغیرہ سے مسئلہ دیکھ کر بتائے تو وہ صحیح ہے یا نہیں؟ اگر صحیح ہے تو ان مسائل میں جو ترمیم کرے اور یہ کہے کہ مسئلہ صحیح ہے لیکن عمل نہ کیا جائے گا ایسے شخص کے بارے میں شریعت کیا حکم دیتی ہے؟ اور جو صحیح مسئلہ پر بحث کرے اور اپنی بڑائی کے لئے کرے۔ جو سیح حکم ہو مرحمت فرمائیں کسی مضمون کولکھا دیکھ کر عالم کا مذاق اڑانا کیسا ہے؟ المستفتی: افتخار حسین
الجواب بعون الملک الوہاب : (1) فی الواقع درزیوں کے متعلق یہ مشہور ہے کہ وہ کپڑا بچالیتے ہیں اس بنا پر عمرو کو اس ٹوپی سے تو رع چاہئے تھا مگر اس مشہور کی بنا پرکسی معین درزی کے لئے یہ جزم نہیں کر دیں گے جب تک کہ ثبوت شرعی سے ثابت نہ ہو کہ اس نے اتنا ٹکڑا بچا لیا ہے جس پر مالک راضی نہ ہوگا، قدر قلیل جو عرف عام میں عفو میں سمجھا جا تا ہو اس میں حرج نہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) نیت کی میں نے نماز جمعہ دورکعت وقت ظہر کی پیچھے اس امام کے منہ میرا کعبہ کو۔ شہر میں جمعہ ادا کرنے سے ظہر ذمہ سے ساقط ہو جائے گا۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) دیہات والوں پر جمعہ کے دن ظہر کی نماز فرض ہے جو جمعہ پڑھنے سے ذمہ سے ساقط نہ ہوگی کہ دیہات میں جمعہ صحیح نہیں۔ مگر جہاں پہلے سے قائم ہے وہاں نہ روکیں گے کہ عوام خدا کا نام لیتے ہیں جو ایک مذہب پر صحیح آتا ہے مگر جانے والا خود نہ پڑھے کہ ہمارے مذہب میں صحیح نہیں ۔ نیز گاؤں والوں کو اس دن یہ حکم دیں گے کہ بعد جمعہ چار رکعت فرض ظہر کی نیت سے باجماعت پڑھ لیں کہ فرض ذمہ میں نہ رہ جائے اور دو رکعت جمعہ نفل ہو جائے۔ گاؤں میں ظہر احتیاطی خواص کے لئے ہے جنہیں کسی جگہ شرائط جمعہ میں کچھ شک ہو، بہار شریعت میں شک نہ ہو غلط چھپ گیا ہے۔ جمعہ کا وقت وہی ہے جو ظہر کا ہے۔ نیت میں وقت جمعہ کہا یا وقت ظہر مال ایک ہے، ظہر احتیاطی کی نیت صحیح ہے مگر وہ وہیں پڑھی جائے گی۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۴) نظام شریعت ، احکام شریعت اور بہار شریعت سے دیکھ کر مسئلہ بتانا صحیح ہے جبکہ اہل فہم ہو اور مسئلہ کو واقعہ کے مطابق بتائے جو نہ جانے اور بحث کرے، سخت گنہگار ہے، اس پر تو بہ لازم۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله الجواب صحیح ۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی ۱۰ رشوال المکرم ۱۳۹۵ھ