جمعہ میں امام جمعہ کی اقتدا کرے، اگر چہ امام جمعہ فاسق ہو
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ: ایک شخص کچھ لوگوں کے اصرار پر مسجد میں نماز پڑھانے لگا ہے، اس شخص نے بہت اصرار کیا کہ میں اس لائق نہیں ہوں مگر مقتدیوں کے زیادہ اصرار پر شخص مذکورنماز پڑھانے لگا۔ کچھ لوگوں نے تقریباً چھ سات ماہ بعد یہ مسئلہ اٹھایا کہ آپ جمعہ کی نماز نہیں پڑھتے ہیں لہذا آپ کے پیچھے نماز جائز نہیں ۔ اس بات پر امام مذکور نے جواب دیا کہ یہاں پر صرف تین مسجدوں میں جمعہ ہوتا ہے، ان تینوں مسجدوں کے امام بے شرع ہیں اس لئے میں ان کے پیچھے نماز جمعہ نہیں پڑھتا، جامع مسجد کے امام مزامیر کے ساتھ قوالی سنتے ہیں اور دوسری مسجد کے امام کی بیوی جنگل میں بے پردہ لکڑیاں وغیرہ اکٹھا کرنے جاتی ہیں اس لئے ان کے پیچھے نماز نہیں پڑھتا ہوں اور تیسری مسجد کے امام کا مخرج صحیح نہیں اور نہ نماز کے متعلق مسائل سے واقفیت ہے اور شخص مذکور بالاسنی صحیح العقیدہ باشرع اور حضور مفتی اعظم سے بیعت ہے لہذا ان لوگوں کا قول پیج ہے یا شخص (امام) مذکور صحیح راستے پر ہے؟ جلد سے جلد جواب سے نواز ہیں۔ عین نوازش ہوگی ۔ فقط ! المستفتی محمد حسین ومحد عمر، ساکنان قصبه فتح گنج مغربی، بریلی شریف
الجواب: سائل پر جمعہ کی نماز فرض ہے جس کے ترک کی رخصت بوجہ فسق امام نہیں ہو سکتی بلکہ اس پر تو بہ لازم ہے کہ جمعہ میں امام جمعہ کی اقتدا کرے اگر چہ امام جمعہ فاسق ہو اور دوسرا امام متقی موجود نہ ہو اور فاسق کی اقتدا سے بچنے کی صورت یہ ہے کہ امامت جمعہ کا اذن سر کار مفتی اعظم ہند دامت برکاتہم العالیہ سے لے لے۔ اب تک جتنی بار جمعہ چھوڑا، اس سے تو بہ لازم ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ ۱۲ ؍رجب المرجب ۱۴۰۰ھ