زید کی اقتدا میں نماز جمعہ کی صحت کا حکم جبکہ سابق امام موجود ہو
زید نے سابق امام کی موجودگی میں بغیر اذن کے نماز جمعہ پڑھائی، جب زید نماز پڑھا کر باہر ہو گیا یعنی سنت پڑھنے کے لئے کھڑا ہونے والا تھا تو سابق امام نے زید سے پوچھا کہ تم نے کس کی اجازت سے نماز پڑھائی ؟ زید کہنے لگا مجھ سے ایک شخص نے کہا تھا۔ اتنے میں مسجد کے متولی اور اکثر مقتدی کہنے لگے کہ نماز کسی کی نہیں ہوئی۔ نماز جمعہ زید کے پیچھے ہوگی یا نہیں؟ از روئے شریعت جواب عنایت فرمائیں۔ المستقتی همه مسیح از ماں، بریلی شریف
الجواب: صورت مسئولہ میں نماز جمعہ ہو گئی بشر طیکہ زید جامع شرائط امامت ہو اور جمعہ وعید بین قائم کرنے کا حق رکھتا ہو یا ایسے کا ماذون ہو جسے اقامت جمعہ وعیدین کا حق ہے، یعنی اعلم علمائے بلد سنی صحیح العقیدہ مرجع فتوئی ہو، یا اس کا ماذون ہو یا ماذون کا ماذون ہو اور اذن خواہ زبانی ہو یا قرینہ حال سے اذن ثابت ہو بایں طور کہ زید کی اقتد اعلم علمائے بلد یا اس کے ماذون نے جمعہ میں کی ہو، اگر چہ زبان سے اذن نہ دیا ہو یوں بھی نماز جمعہ زید کی اقتدا میں صحیح ہے اور بیان مسائل سے ظاہر ہے کہ جو امام مقرر ہے اس نے زید کی اقتدا کی تو امام سابق اور اس کے ہمنواؤں کا اعتراض غلط ہے، ان پر تو بہ لازم ہے۔ اللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۱۴ / جمادی الاولی ۱۴۰۷ھ