مرہون زمین سے فائدہ اٹھانا، خطبہ کی اذان میں انگوٹھے چومنا اور بینک سود کا حکم
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ : (1) ہمارے علاقہ میں دستور ہے کہ زمین رہن لی جاتی ہے، اس شرط پر کہ جب آپ کا روپیہ دے دیں گے تو آپ ہماری زمین چھوڑ دیجئے گا۔ ایسی صورت میں اس مرہون زمین سے فائدہ اٹھانا کیسا ہے؟ از روئے شرع جواب عنایت فرما ئیں ۔ مہربانی ہوگی۔ (۲) خطبہ کی اذان میں انگوٹھا چومنا کیسا ہے؟ آپ براہ کرم اگر جائز ہے تو فقہی عبارت یا حدیث کے الفاظ تحریر فرما ئیں ، اگر نا جائز ہے تو بھی عربی ہی عبارت مع حوالہ ہونا چاہئے ۔ ایسا فعل ما بین خطبہ منع ہے یا نا جائز ہے؟ نا جائز ہے تو کس کا قول ہے؟ منع ہے تو کس کی روایت ہے؟ (۳) زید کا بینک بیلینس ہے، اس میں موجودہ حکومت جور و پی زائد سود دیتی ہے، اس روپیہ کا استعمال جائز ہے یا نہیں؟ اگر ہے تو کس کام میں لیا جا سکتا ہے؟ اگر ہم اسے مسجد میں یا مدرسہ میں صرف کرنا چاہیں تو کوئی قباحت ہے یا نہیں؟ از روئے شرع مطلع فرمائیں ۔ مہربانی ہوگی۔
لمستفتی محمد حنیف قادری، مدرسہ ریاض العلوم، ہم پور، ترائی ، بہرائچ
الجواب: (1) ناجائز ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) جائز نہیں کہ خطبہ میں محض سکوت وسکون کا حکم ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) وہ رقم خالص مباح ہے، اسے سود سمجھنا جائز نہیں ۔ ہر جائز مصرف میں صرف کر سکتے ہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله