خطبہ جمعہ میں اولیاء اور باحیات علماء کا نام دعا کے طور پر ذکر کرنے کا حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین دریں مسئلہ کہ : (1) زید عالم ہے اور جمعہ کے خطبہ ثانی میں خلفائے راشدین امام حسن و امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہم سرکار غوث پاک سرکار اعلیٰ حضرت و سرکار مفتی اعظم ہند رضی اللہ تعالی عنہم کا نام لیتا ہے، ان کے بعد ایک عالم کا بھی نام لیتا ہے جو باحیات ہیں، کیا خطبہ ثانیہ میں کسی کا نام لینا خواہ وہ عالم ہو یا غیر عالم ۔ جائز ہے یا نہیں؟ قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب مرحمت فرمائیں۔ لمستفتی : سید محمدحسین افریقی
اگر خطبہ میں دعا کے طور پر عالم دین کا نام خالص عربی میں لیتا ہے تو حرج نہیں ! الجواب: اگر وہ دعا کے طور پر عالم دین کا نام خالص عربی میں لیتا ہے تو حرج نہیں ۔ مگر یہ نیا طریقہ ہے تو اس سے اگر لوگوں میں بے چینی اور غلام نہی ہے تو اسے ترک کر دینا بہتر ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله