عیدگاہ میں جماعت ثانیہ، امام کا انصراف، اور نماز عیدین و جمعہ کے مختلف احکام
قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی ایک ہی عید گاہ میں جماعت ثانیہ از روئے شریعت کیسی؟ رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم دعا کے لئے اکثر داہنی جانب انصراف فرماتے تھے !نماز جمعہ وعیدین میں بعد سلام انصراف مستحب ہے! کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ : (۱) ایک ہی عیدگاہ میں جماعت ثانیہ از روئے شریعت جائز ہے یا نہیں؟ (۲) کن کن نمازوں میں اور کس سمت کی طرف حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چہرہ مبارک پھیر کر دعا مانگی اور کیوں؟ اور اگر امام نے قبلہ ہی کی طرف دعامانگ لی تو نماز درست ہوگی یا نہیں؟ (۳) کیا نماز جمعہ اور عیدین میں بھی الٹ کر دعا مانگنا قرآن وحدیث سے ثابت ہے۔ نیز عیدین میں نماز کے بعد یا خطبہ کے بعد دعامانگنا درست ہے؟ اور نماز عیدین جبکہ مثل جمعہ ہے تو پھر اس میں اذان و اقامت کیوں نہیں؟ (۴) نماز جمعہ ختم ہونے کے بعد اچانک لوگوں کی ایک بڑی تعداد پہنچ گئی ، اب ایسی صورت میں نماز جمعہ ادا کرے یا نماز ظہر؟
الجواب: (1) جائز ہے جبکہ عذر شرعی ہو اور امام ماذون بر اقامت جمعہ وعید بین ہو۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) حضور صلی اللہ علیہ وسلم اکثر داہنی جانب سلام کے بعد پھر جاتے تھے اور صحابہ کرام کی طرف منہ اور قبلہ کو پشت اقدس بھی فرماتے اور کبھی بائیں جانب انصراف فرماتے اس لئے امام کو انصراف کا حکم ہے جبکہ اس کے محاذات میں کوئی مسبوق نماز نہ پڑھ رہا ہو قبلہ رو بیٹھے رہنا نہ چاہئے ۔ منیہ وغنیتہ میں ہے: فاذا تمت صلاة الامام فهو مخير ان شاء انحرف عن يساره وجعل القبلة عن يمينه وان شاء انحرف عن يمينه وجعل القبلة عن يساره وهذا اولى لما في مسلم من حديث البراء کنا اذا صلينا خلف رسول الله صلى الله عليه وسلم احببنا أن نكون عن يمينه حتى يقبل علينا بوجهه وقيل معناه حتى يقبل معناه حتى يقبل علينا بوجهه قبل من هو عن يساره فيفيد الانصراف عن يمينه لا انه يجلس منحرفاً بل يستقبلهم في القعود بعد الانصراف عن يمينه كما في حديث انس في مسلم ايضاً كان النبى صلى الله عليه وسلم ينصرف عن يمينه ملخصاً) واللہ تعالیٰ اعلم (۳) ہاں نماز جمعہ وعیدین میں بھی بعد سلام انصراف مستحب ہے، بحکم حدیث مذکور، عیدین میں نماز کے بعد دعامانگنا مسنون ہے۔ اخبرنا ابو حنيفة عن حماد عن ابراهيم قال كانت الصلاة في العيدين قبل الخطبة ثم يقف الامام على راحلته بعد الصلاة ويصلى بغیر اذان ولا اقامة “(۲) امام اعظم نے حماد سے، انہوں نے ابراہیم نخعی سے روایت فرمائی کہ نماز عید بین خطبہ سے پہلے ہوتی تھی ، پھر امام اپنے راحلہ پر وقوف کر کے نماز کے بعد دعا مانگتا اور نماز بے اذان واقامت ہوتی ،خطبہ کے بعد بھی دعا جائز ہے۔ تفصیل کے لئے رسالہ مبارکہ سرور العید فی حل الدعاء بعد صلاۃ العید دیکھیں ۔ آپ سے کس نے کہہ دیا کہ عیدین مثل جمعہ ہے؟ جمعہ قائم مقام ظہر کے ہے اس لئے اس میں اذان واقامت ہے تو عیدین کون سی وقتی نماز کے قائم مقام ہے کہ اس میں اذان واقامت ہو۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۴) ایک ہی مسجد میں تکرار جمعہ ہرگز جائز نہیں، جمعہ وعیدین کی نماز مثل نماز پنجگانہ نہیں کہ جسے چاہے امام مقرر کر دیجئے بلکہ اس کے لئے شرط لازم کہ امام ماذون با قامت جمعہ یا سلطان اسلام ہو بلا واسطہ یا بواسطہ کہ ماذون کا ماذون ہو یا ماذون الماذون کا ماذون ہو اور ایک مسجد کے لئے ایک وقت میں دو امام کی ضرورت نہیں تو جب پہلا امام معین جمعہ ہے تو دوسر ا ضرور اس کی لیاقت سے دور اور اس کے پیچھے نماز جمعہ باطل ومحظور۔ البتہ اگر امام معین نے براہ شرارت خواہ اپنی کسی خاص حاجت کے سبب وقت معہود سے پیشتر چند کے ساتھ نماز پڑھ لی ہو تو عامہ جماعت مسلمین بالاتفاق امام مقرر کر لیں اور نماز جمعہ پڑھیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله