جمعہ کی صحت کے لئے شہر یا فنائے شہر شرط ہے
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ: ایک گاؤں جس میں تقریباً دو سو مسلم گھروں کی آبادی ہے اور اسی گاؤں کے تخمیناً ایک سو پچھیں گھر والے عقائد باطلہ مان کر وہابی ہو گئے ہیں، قیام وسلام، فاتحہ، نیاز وغیرہ بند کر دیے ہیں اور ایک وہابی امام کو بھی رکھ لیا ہے اس لئے کہ مسجد انہی لوگوں کی زمین میں ہے اور یہ دعویٰ کیا ہے کہ مسجد ہمارے باپ دادا کی ہے تو بیچارے سنی مسلمان جمعہ وغیرہ چھوڑ دیتے ہیں اور مدرسہ قائم کیا ہے جو مدرسہ بالا ہے اور عید گاہ بھی اور دو حضرات حضور مفتی اعظم ہند رحمتہ اللہ علیہ سے دست بیعت ہیں ۔ اب مسلک اعلیٰ حضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ماننے والوں کی یہ خواہش ہے کہ جمعہ قائم کرلیں کیوں کہ جمعہ کی نماز اور فضیلت سے محروم رہنا پڑتا ہے تو ایسی صورت میں یہ لوگ جمعہ قائم کر سکتے ہیں یا نہیں؟ از روئے شرع جواب عنایت فرمانا چاہئے ۔ کرم ہوگا۔ فقط ۔ والسلام ! المستفتی: جناب ماسٹر مقیم الدین صاحب نوری
الجواب: دیہات میں جمعہ صحیح نہیں کہ جمعہ کی صحت کے لئے شہر یا فنائے شہر شرط ہے۔ عالمگیری باب الجمعہ میں ہے: ومن لا تجب عليهم الجمعة من اهل القرى والبوادى لهم ان يصلوا الظهر بجماعة يوم الجمعة باذان واقامة اور شہر شرعاوہ جگہ ہے جو ضلع یا پرگنہ ہو ، جس کے متعلق دیہات گنے جاتے ہوں اور وہاں متعدد گلی کوچے دوامی بازار ہوں اور وہاں حاکم رہتا ہو جو اپنی شوکت و حشمت سے مظلوم کا انصاف ظالم سے لے سکے اور فنائے شہر وہ جگہ ہے جو شہر سے متصل مصالح شہر کے لئے ہو۔ (۲) لہذا دیہات والوں پر اس دن ظہر فرض ہے جو جمعہ پڑھنے سے ادا نہ ہوگا بلکہ ذمہ پر رہے گا مگر جہاں عوام پہلے سے جمعہ پڑھتے آئے ہوں اس جگہ انہیں مصلی منع نہیں کیا جا تا کہ خدا کا نام لیتے ہیں جو ایک مذہب پر صبح آتا ہے۔ ممانعت سے اندیشہ ہے کہ پنجوقتہ بھی چھوڑ بیٹھیں گے۔ ہاں، بعد جمعہ اگر چار رکعت فرض ظہر باجماعت پڑھ لیں تو اس دن کے فرض سے باکمل وجہ سبکدوش ہو جائیں گے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله