خطبہ جمعہ میں عربی کے علاوہ دیگر زبان میں کلام کرنے یا مسائل بیان کرنے کا حکم
مخدومی و مکرمی ! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاته ! خدا کرے آپ مع الخیر ہوں۔ رامپور کے چند آدمی جو بمبئی میں رہتے ہیں، انہوں نے آپ کی شان وشوکت اور عظمت و وقار کا تذکرہ کیا، مجھے قلبی مسرت ہوئی اور ساتھ ہی ایک امید کی کرن نظر آئی کہ حضور سید العلماء علیہ الرحمۃ کے بعد بمبئی کی مرکزیت کو جو ایک ٹھیس پہنچی تھی۔ اب آپ کی شخصیت مرہم ثابت ہوگی۔ خدا وند کریم بطفیل سید المرسلین آپ کے درجات میں اور بلندیاں عطا فرمائے ۔ آمین ثم آمین ! آپ کو تو معلوم ہے کہ وجیہ الدین احمد خاں صاحب خطبہ جمعہ کے دن درمیان میں اردو میں تھوڑی دیر تقریر کرتے ہیں، اسی سلسلہ میں رامپور کی متعدد مساجد میں اختلافات ہوئے ، مجھ سے بھی پوچھا گیا۔ میں نے اپنے مسلک کی وضاحت کر دی ۔ مولوی وجیہ الدین خاں کے مدرسے کے مفتی اور ان کے شاگر درشید نے اس سلسلے میں یہ منسلکہ فتویٰ دیا ہے نقل آپ کی خدمت میں پیش کرتے ہوئے باادب گزارش ہے کہ آپ بہت ٹھوس اور مدلل جواب تحریر فرما ئیں ۔ اور کسی سے خوشخط لکھوا کر خادم کے پاس بھیج دیں تو ہو سکتا ہے کہ آپ کا عطا کردہ جواب پوسٹر کی شکل میں نظر آئے۔ کیا خطبہ عربی زبان کے علاوہ دوسری زبان مثلاً اردو میں مسائل بیان کیے جاتے ہیں؟ اردو میں خطبہ پڑھنا درست ہے یا نہیں؟ شریعت کے حکم سے آگاہ کیا جائے۔اور سب خیریت ہے، جواب جلد مرحمت فرمائیں ،نوازش ہوگی ۔ فقط ۔ والسلام! مستفتی: خادم، محتاج دعا: نورالدین نظامی ساکن مزار شاہ درگاہی ، رامپور
الجواب : اصل تو یہ ہے کہ خطبہ عربی زبان میں ہو۔ اب چونکہ عربی سمجھنے والے ہوتے نہیں یا کم ہوتے ہیں، اس لئے اردو زبان یا دیگر زبان میں مسائل مختصراً دوران خطبہ بیان کر دیے جائیں تو جائز ہے۔ حضرت مولانا ارشاد حسین صاحب مجددی علیہ الرحمہ نے فتاویٰ ارشادیہ میں یہی لکھا ہے اور در مختار وغیرہ کا حوالہ دیا ہے اور مفتی مولوی عبد القادر صاحب فرنگی محلی نے بھی فتاویٰ قادریہ میں یہی لکھا ہے۔ پس ہمارے نزدیک عربی کے ساتھ مختصراً اردو جس میں مسائل ضرور یہ کا بیان ہو ، جائز اور درست ہے۔ فقط ۔ ہذا صورۃ الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب مجیب : احقر محبوب علی وجیہی غفر له مفتی مدرسه جامع العلوم فرقانیه، رامپور ۱۸/ نومبر ۱۹۷۸ء الجواب: خطبہ خالص عربی میں ہونا سنت متوارثہ ہے اور سنت متوارثہ کی اتباع ضرور۔ اسی رد المحتار میں ہے جس کا فتوائے منسلکہ میں تذکرہ آیا: لان المسلمين توارثوه فوجب اتباعهم (۱) صحابہ کرام کے زمانہ اقدس میں بہت بلاد نجم فتح ہوئے اور عجم کی عربی سے نا واقعی مقتضی تھی کہ خطبہ کو بزبان بھی پڑھنے کا طریقہ اپنایا جا تا مگر اس کے برعکس جبھی سے تمام بلا دو امصار میں خطبہ بہ زبان عربی رائج اور اب تک یہی معمول چلا آ رہا ہے اس سے ظاہر کہ صحابہ نے سنت نبویہ کو بحالہا باقی رکھا اور خود فتوائے مذکورہ میں مجیب کو اعتراف ہے کہ اصل تو یہ ہے کہ خطبہ عربی زبان میں ہو تو خود مجیب کے اقرار سے ثابت کہ خطبہ میں دوسری زبان ملانا مکروہ وخلاف نص ہے۔ اور اصل کی مخالفت کے لئے یہ عذر مہمل کہ چونکہ عربی سمجھنے والے نہیں یا کم ہوتے ہیں اس لئے اردو زبان یا ۔ الخ۔ کہ بیان مسائل خطبہ سے پہلے یا بعد بھی ہوسکتا ہے۔ اس کے لئے قید سنت کیا ضرور؟ حضرت مولانا ارشاد حسین صاحب علیہ الرحمہ اور دوسرے مفتی صاحب نے کیا لکھا ہے، ان کی تحریر بعینہ درج کیجئے تا کہ اس پر کلام کیا جائے۔ بالجملہ خطبہ میں دوسری زبان ملانا مکروہ و خلاف سنت ہے اور اس کی ترویج سنت کی تبدیلی۔ واللہ یقول الحق وھو یہدی السبیل ۔ وھو تعالی اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی ۲۳ / جمادی الاولی ۱۳۹۹ھ (1) الدر المختار، ج ۳، ص ۶۵ ، کتاب الصلوۃ، باب العیدین، دار الكتب العلمية بيروت