گاؤں میں جمعہ کا حکم، اذان ثانی، خطبہ عربی اور رہن کے مسائل
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسائل ذیل کے بارے میں کہ: (1) گاؤں میں جمعہ جائز ہے یا نہیں ؟ اگر نہیں تو کیوں؟ (۲) جمعہ کی اذان ثانی مسجد کے اندر ہونی چاہئے یا باہر ؟ (۳) خطبہ جمعہ صرف عربی میں پڑھا جائے؟ اگر اردو میں پڑھیں تو کیسا ہے؟ (۴) مکان گروی ہے، اسے کرایہ دے رکھا ہے، اس کا کرایہ مرتہن لے سکتا ہے یا نہیں؟ المستفتی : محمد شوکت علی پہلوان ، جگہ محله، بنجارہ گلی، بیاد در ضلع جمیر ( راجستھان)
الجواب: (1) نہیں ، اس لئے کہ شرعاً جمعہ کے لئے مصر یا فنائے مصر شرط ہے اور مصر وہ جگہ ہے جو ضلع یا پرگنہ ہو جس کے متعلق دیہات گنے جاتے ہوں اور وہاں متعدد گلی کوچے دوامی بازار ہوں اور اس جگہ حاکم رہتا ہو جو ظالم سے مظلوم کا انصاف اپنی شوکت و حشمت سے لے سکے۔حدیث میں ہے: ،، لا جمعة ولا تشريق ولا صلوة فطر ولا أضحى الا في مصر جامع (1) عمدة القاری شرح صحيح البخاری، ج ۲، ص ۲۷ كتاب الجمعة باب الجمعة في القرى والمدن دار الكتب العلمية بيروت / كنز العمال ، ج ۸، ص ۱۷۴، حدیث - ۲۳۳۰۵، حرف اللام، دار الكتب العلمية بيروت کنز وغیرہ میں ہے: شرط ادائها المصر) مگر جہاں پہلے سے عوام پڑھتے چلے آئے ہوں وہاں منع نہیں کیا جائے گا کہ آخر خدا کا نام لیتے ہیں منع سے اندیشہ ہے کہ وہ پنجوقتہ نماز بھی چھوڑ بیٹھیں گے۔ البتہ بعد دورکعت بنام جمعہ چار رکعت فرض ظهر باجماعت پڑھ لیا کریں ورنہ ترک فرض ظہر و واجب جماعت کے سبب گنہ گار ہوں گے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) اذان جمعہ خواہ کوئی اذان ہومسجد کے اندر نا جائز ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) خطبہ خالص عربی میں سنت متوارثہ ہے اور سنت متوارثہ کی اتباع ضرور ہے اور اس کا خلاف مکروہ ہے۔ در مختار میں ہے: لان المسلمين توارثوه فوجب اتباعهم (۲) (۴) نہیں کہ رہن سے انتفاع را ہن اور مرتہن دونوں کو نا جائز ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله