دیہات میں جمعہ و عیدین کے عدم جواز اور عالم کے وہاں نماز نہ پڑھنے کا حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: عمر و عالم بھی ہے اور ہر اچھے کاموں پر عمل کرتا ہے اور ان کے گاؤں میں جمعہ اور عید کی نماز ہوتی ہے لیکن جمعہ اور عید کی نماز پڑھتا نہیں ہے۔ گاؤں والوں نے اس سے پو چھا کہ تم جمعہ اور عید کی نماز کیوں نہیں پڑھتے ؟ تو اس نے جواب دیا کہ گاؤں میں جمعہ اور عید کی نماز جائز نہیں ہے، تم لوگ پڑھ سکتے ہو لیکن میں نہیں پڑھوں گا۔ تو عمرو کا کہنا صحیح ہے یا غلط؟ شرع میں عمر و پر کیا حکم لگایا جائے گا ؟ دلیل کے ساتھ جواب تحریر کریں عین نوازش ہوگی۔ نیازمند: محمد مستحسن ، جلکر ، پوسٹ جلکی کلیبار (بہار)
دیہات میں جمعہ وعیدین ہم حنفیہ کے نزدیک صحیح نہیں ! کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: عمر و عالم بھی ہے اور ہر اچھے کاموں پر عمل کرتا ہے اور ان کے گاؤں میں جمعہ اور عید کی نماز ہوتی ہے لیکن جمعہ اور عید کی نماز پڑھتا نہیں ہے۔ گاؤں والوں نے اس سے پو چھا کہ تم جمعہ اور عید کی نماز کیوں نہیں پڑھتے ؟ تو اس نے جواب دیا کہ گاؤں میں جمعہ اور عید کی نماز جائز نہیں ہے، تم لوگ پڑھ سکتے ہو لیکن میں نہیں پڑھوں گا۔ تو عمرو کا کہنا صحیح ہے یا غلط؟ شرع میں عمر و پر کیا حکم لگایا جائے گا ؟ دلیل کے ساتھ جواب تحریر کریں عین نوازش ہوگی۔ نیازمند: محمد مستحسن ، جلکر ، پوسٹ جلکی کلیبار (بہار)
الجواب: عمرو کا کہنا درست ہے۔ بے شک دیہات میں جمعہ وعیدین صحیح نہیں ہے ہم حنفیہ کے نزدیک۔ مگر جہاں پہلے سے عوام نے جمعہ قائم کر لیا ہے وہاں منع نہ کیا جائے گا کہ آخر خدا کا نام لیتے ہیں جو ایک مذہب پر سیخ آتا ہے، مگر عالم خود شریک نہ ہو اور عوام کو حکم کرے کہ چار رکعت بہ نیت ظهر با جماعت پڑھ لیا کریں ۔ فرض ذمہ سے یقینی طور پر ساقط ہو جائے گا۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از ہری قادری غفرلہ ۲۰ محرم الحرام ۱۳۹۶ھ
الجواب صحیح ۔ حدیث شریف میں ہے: لا جمعة ولا تشريق ولا اضحى الا فی مصر جامع ملخصا (1) ہدایہ میں ہے: لا تصح الجمعة الا فى مصر جامع او فی مصلی المصر (2) واللہ تعالیٰ اعلم ریاض احمد سیوانی غفرلہ
(1) فتح الباری شرح صحیح البخاری، ج ۲، ص ۵۸۹ کتاب العیدین ، باب فضل العمل في ايام التشريق، دار السلام ریاض (2) الهداية ج ۱، ص ١٦٨ ، كتاب الصلوة، باب صلوة الجمعة مجلس بركات