دیہات میں جمعہ، غیر مقلد کی اقتدا اور بد مذہب انتظامیہ کے متعلق سوالات کے جوابات
برائے کرم از روئے شرع کیا دونوں مساجد میں جمعہ پڑھا جا سکتا ہے، اس بارے میں آپ کی تحریر ہمارے لئے مشعل راہ ہوگی ۔ (۲) اس امام کے پیچھے جو غیر مقلد ہو اور پھر تبلیغی جماعت سے تعلق رکھتا ہو، کیا اس کی اقتدا کر سکتے ہیں؟ اب تک جو نمازیں پڑھی جا چکی ہیں، درست ہیں یا از سر نو پڑھنا چاہئے؟ (۳) اگر چند مسجد کے اراکین اہلسنت سے تعلق نہیں رکھتے مگر دوسری جماعتوں سے تعلق رکھتے ہیں پھر بھی تمام مسجد کے امور بڑے سلیقے سے اور صحیح طریقے سے کرتے ہیں ۔ ایسی صورت میں کیا ان لوگوں کو مسجد اراکین پر برقرار رکھ سکتے ہیں؟ اور کیا ان کی خدمت مسجد کے لئے قابل قبول ہے؟ اہلسنت والجماعت کی مسجد ہے ۔ المستفتی: محمد عیسی، جونیئر انگلش پلانگ سینٹر کیراف چیف انجینئر نگا بعد راؤ پر اجنٹ، پوسٹ منیر آباد، کرناٹک
الجواب (۱) اگر وہ جگہ ، شہر یا فنائے شہر نہیں ( یعنی وہ جگہ ضلع یا پر گنہ نہیں جس کے متعلق دیہات گنے جاتے ہوں اور وہاں حاکم نہیں رہتا جو اپنی شوکت سے ظلم کا انصاف ظالم سے لے سکے ) تو وہاں جمعہ صحیح نہیں بلکہ اس دن وہاں کے لوگوں پر ظہر فرض ہے جو جمعہ پڑھ لینے سے ادا نہ ہوگا بلکہ ذمہ پر رہے گا۔ مگر جبکہ اس جگہ کے عوام پہلے سے جمعہ پڑھتے آئے تو انہیں مصلحا منع نہیں کیا جاتا کہ آخر خدا کا نام لیتے ہیں جو ایک مذہب پر صیح آتا ہے۔ ہاں بعد جمعہ چار رکعت فرض ظہر باجماعت پڑھ لیا کریں اور نیا جمعہ قائم کرنا اور اختلاف ڈالنا جائز نہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) غیر مقلدین اپنے عقائد کفریہ کے سبب بیدین ہیں، ان کی اقتد اباطل ہے اور نمازیں جو اُن کے پیچھے پڑھیں ، ان کو دہرانا فرض ہے۔ فتح القدیر میں ہے: ان الصلاة خلف اهل الاهواء لا تجوز ) واللہ تعالیٰ اعلم (1) فتح القدير، ج ۱، ص ۳۶۰، کتاب الصلوۃ، باب الامامة بركات رضا (۳) ہرگز نہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم شب یکم ربیع الاول ۱۴۰۴ھ/ در سفر قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی