نماز جمعہ کی صحت کے لئے مصر یا فنائے مصر کی شرط اور دیہات میں جمعہ کا حکم
(۱) ہمارے گاؤں سے قصبہ بالکل قریب ہے، فاصلہ چار پانچ کھیتوں کا ہے اور ہماری نماز جمعہ عرصہ دراز سے ہوتی چلی آرہی ہے اور یہاں کتنے ہی عالم بھی تشریف لائے اور جمعہ پڑھایا گیا اور آج تک کسی عالم نے یہاں جمعہ پڑھنے کو منع نہیں کیا اور اب یہ امام صاحب جو کچھ دنوں سے آئے ہوئے ہیں، انہوں نے نماز جمعہ کو منع کر دیا ہے اور نماز جمعہ اس طرح ہوتی ہے کہ پہلے خطبہ پڑھا پھر دو فرض جمعہ پڑھا پھر چار فرض ظہر با جماعت ۔ شریعت کا کیا حکم ہے؟ واضح فرمایا جائے۔ (۲) نماز جمعہ جہاں منع ہے اور جہاں جمعہ نہیں ہو سکتا ہے، وہاں کیا نماز عید ین ہوسکتی ہے؟ جبکہ امام صاحب نے نماز عید الفطر پڑھائی ہے، یہ صیح ہے یا غلط ہے؟
الجواب: (۱) نماز جمعہ کی صحت کے لئے مصر یا فنائے مصر شرط ہے۔ مصر وہ جگہ ہے جہاں متعد دکوچے ، دوامی بازار ہوں اور وہ جگہ ضلع یا پرگنہ ہو جس کے متعلق دیہات گنے جاتے ہوں اور وہاں حاکم رہتا ہو جو اپنی شوکت وحشمت سے ظالم سے مظلوم کا انصاف لے سکے۔ حضرت علی مرتضیٰ کا ارشاد ہے: ،، لا جمعة ولا تشريق ولا صلوة فطر ولا اضحى الا في مصر جامع (1) جو جگہ مصر یا فنائے مصر نہ ہو وہاں کے لوگوں پر اس دن ہمارے ائمہ حنفیہ کے نزدیک ظہر فرض ہے جو جمعہ پڑھ لینے سے ساقط نہ ہو گی ۔ مگر جہاں عوام پہلے سے پڑھتے آئے ہوں انہیں روکا نہ جائے گا کہ آخر خدا کا نام لیتے ہیں، جو ایک مذہب پر صیح آتا ہے، ہاں احتیاط کے طور پر انہیں یہ حکم دیا جائے گا کہ بعد جمعہ چار رکعت ظہر با جماعت بھی پڑھ لیں ، اس میں حکمت یہ ہے کہ اگر ایک مذہب پر جمعہ بیج ہو گیا تو چار رکعت نفل ہو جائیں گے اور ثواب عطا کیا جائے گا اور اگر جمعہ میچ نہیں تو دورکعت نماز جمعہ نفل ہو جائے گی اور چار رکعت بعد جمعہ کے فرض ظہر ہو جائے گا۔ امام نے جمعہ سے منع نہیں کیا بلکہ اعلیٰ درجہ کی احتیاط بتائی ہے۔ واللہ تعالی اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله