خطبه حالص عربی زبان میں ہونا چاہئے ، عربی کے سوا دوسری زبان میں خلاف سنت متوارثہ ہے!
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین کہ: جماعت اسلامی کے کچھ لوگ جمعہ کا پہلا خطبہ اردو میں پڑھتے ہیں اور دوسرا عربی میں پڑھتے ہیں ۔ ان لوگوں کا کہنا ہے کہ اردو میں خطبہ پڑھنا کوئی حرج کی بات نہیں ہے بلکہ لوگوں کو سمجھنے میں آسانی ہوتی ہے۔ دریافت طلب مسئلہ یہ ہے کہ آیا اردو میں خطبہ پڑھنا جبکہ آج تک عربی میں پڑھا جاتا رہا، درست ہے یا نہیں؟ اگر ایسا ہے تو پھر ہر جگہ کے لوگ اپنی اپنی زبان میں مثلاً مراٹھی تلنگی ، بنگالی، سندھی وغیرہ میں پڑھنا شروع کر دیں تو بھی کوئی حرج نہیں ہوگا ؟
الجواب: خطبہ خالص عربی میں ہونا چاہئے ۔ عربی کے سوا دوسری زبان میں خلاف سنت متوارثہ ہے، اور سنت متوارثہ کا خلاف مکروہ ہے۔ ہر زمانہ میں اہل اسلام میں خطبہ خالص عربی میں معمول رہا ہے اور متوارث کا اتباع ضرور ہے۔ در مختار میں ہے: لان المسلمين توارثوه فوجب اتباعهم (۱) صحابہ کرام کے زمانے میں ہزار ہا بلاد مجم فتح ہوئے ، ہزاروں بجھی حاضر ہوتے تھے مگر کبھی منقول نہیں کہ انہوں نے ان کی غرض سے خطبہ غیر عربی میں پڑھا، یا اس میں دوسری زبان ملائی و کل ما وجد مقتضية عنا مع عدم المانع ثم تركوه دل على انهم كفوا عنه فكان ادناه الكراهة_ عوام کا یہ عذر کہ عربی سمجھ میں نہ آئیگی ، دوسری زبان میں ان کے لئے آسانی ہوگی ، جب صحابۂ کرام کے نزدیک قابل لحاظ نہ ہوا تو یہ نام نہاد جماعت اسلامی والے کون ہیں؟ نماز بھی تو عربی میں پڑھی جاتی ہے، کیا عوام کی آسانی کے لئے اردو میں پڑھی جائے گی ؟ حاشا و کلا۔ مگر ان سے بعید نہیں کہ نئی شریعت گڑھ لیں۔ مسلمانوں کو لازم ہے کہ ان دشمنان اسلام کی باتوں پر کان نہ دھریں ، عوام اگر اردو میں خطبہ سننا چاہیں تو خطبہ سے پہلے اس کا ترجمہ سن لیا کریں۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله