دیہات میں نئی مسجد میں جمعہ تا ئم کرنا منع ہے! جمعہ کی طرح عیدین بھی گاؤں میں صحیح نہیں !
کیا فرماتے ہیں علمائے دین مندرجہ ذیل مسائل میں کہ: (1) زید کے گاؤں میں ایک مسجد تھی جس میں جمعہ ہمیشہ سے ہوتا چلا آیا ہے، چند آدمیوں کے مشورہ سے جدید مسجد تعمیر ہوگئی جس وقت سے تعمیر ہوئی اس وقت سے لے کر کئی سال تک جمعہ نہیں ہوا۔ درمیان میں چند شر پسندوں نے جامع مسجد کے امام صاحب پر غلط الزامات عائد کیے، بذریعہ نوٹس کچہری دیو بندی بتا دیا ( جبکہ جامع مسجد کے امام صاحب مفتی اعظم و شیر بیشہ اہلسنت کے خلیفہ ہیں ) اور جدید مسجد کے امام نے جمعہ قائم کر لیا۔ قائم ہونے پر فتویٰ طلب کیا گیا، فتویٰ لکھ کر آیا کہ جمعہ بند کر دیا جائے اور جس نے جمعہ قائم کیا وہ توبہ کرلے اور اگر وہ ایسا نہ کرے تو لوگ اس سے قطع تعلق کریں، اس پر بھی جدید مسجد کے امام نے جمعہ بند نہ کیا۔ ابھی ۲۷ محرم ۱۴۰۴ھ کو ایک مولوی صاحب سنی جدید مسجد میں بلائے گئے اور تقریر کی ، عرض کیا کہ دیہات میں جمعہ حرام حرام حرام ہے مگر جہاں ہوتا ہے، بند کرنا جاہلوں کا کام ہے، اس لئے جامع مسجد میں بھی جمعہ پڑھ سکتے ہیں، ایک طرف مولوی صاحب حرام بھی کہہ رہے ہیں اور ایک طرف ایک جدید مسجد میں جمعہ پڑھنے کا بھی حکم دے رہے ہیں جبکہ شرائط جمعہ میں پہلی شرط مصر وفنائے مصر کہیں نہیں پائی جاتی مگر جامع مسجد میں ہمیشہ سے ہوتا چلا آیا ہے اس لئے پڑھتے ہیں اور بحکم مصنف بہار شریعت جہاں جمعہ ہوتا ہے، بند نہ کیا جائے اور جہاں نہیں ہوتا وہاں قائم نہ کیا جائے نیز جمعہ چونکہ شعائر اسلام میں سے ہے اس میں جماعت کی کثرت باقی نہیں رہی جس کی وجہ سے شان و شوکت جاتی رہی حالانکہ مسئلہ بھی یہی ہے کہ اس صورت میں دوسرا جمعہ قائم نہ ہوگا مگر پھر بھی مولوی صاحب نے جدید مسجد میں جمعہ پڑھنے کا حکم دیا جس سے عوام میں کشیدگی ہے اور دو پارٹی ہوگئی ہیں لہذا دریافت طلب بات یہ ہے کہ عالم صاحب کا قول از روئے شرع درست ہے اور جمعہ جدید مسجد میں کیا اب بھی بند کیا جا سکتا ہے؟ اور جدید مسجد کے امام جنہوں نے جامع مسجد کے امام پر از روئے شرع غلط الزام عائد کیے اور بحکم فتوی بریلی شریف جمعہ بند نہ کیا شریعت کے مطابق ایسے امام پر کیا حکم ہے؟ تحریر فرمائیں تا کہ آپس میں
الجواب:(1) فی الواقع نئی مسجد میں جمعہ قائم کرنا منع ہے اور خصوصاً جبکہ فتنہ وفساد اور افتراق بین المسلمین کا سبب ہو تو اس سے احتراز شدید لازم ہے اور مولوی مذکور کا قول غلط ہے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم(۲، ۳) جمعہ کی طرح عیدین بھی گاؤں میں صحیح نہیں۔در مختار میں ہے:’صلاة العيد فى القرى تكره تحريما لأن المصر شرط الصحة (1)مگر جہاں پہلے سے لوگ پڑھتے ہیں اس جگہ ممانعت نہیں کہ خلاف مصلحت ہے اور نئی جگہوں پر عیدین کی جماعت قائم کرنا منع ہے۔ ان لوگوں کو وہیں پڑھنا چاہئے جہاں پڑھتے تھے۔ واللہ تعالی اعلمفقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله(1) صبح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلمشب ۱۱ ؍ ربیع الاول ۱۴۰۴ھقاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القویالدر المختار، ج ۳، ص ۴۶، کتاب الصلوة باب العیدین، دار الكتب العلمية بيروت