داڑھی کٹوانے والے امام کی اقتدا اور سجدے میں انگلیوں کے پیٹ لگنے کا حکم
اقتدا میں جو نماز پڑھی گئی ، کیا حکم ہے؟
المستفتی: بہادر علی گونڈوی (1) ٹھوڑی پر جمے ہوئے بال داڑھی میں شمار ہیں، ان کا کٹوانا نا جائز ہے اور حد شرع کہ ایک قبضہ ہے، اس سے کم کرنا بھی گناہ ہے۔ درمختار میں ہے: يحرم على الرجل قطع لحيته (1) اسی میں ہے: والسنة فيها القبضة (٢) سجدے میں ایک انگلی کے پیٹ کا لگنا فرض ہے، بغیر اس کے نماز نہیں ہوتی ۔ اور اکثر کا لگنا واجب اور کل کے بیٹوں کا لگنا سنت مؤکدہ اور سنت مؤکدہ کے ترک کی عادت گناہ اور ایسے امام کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہے کہ پڑھنی گناہ اور پھیرنی واجب ہے۔ غنیہ میں فتاویٰ حجہ سے ہے: لوقدموا فاسقاياثمون (۳) (۴) در مختار میں ہے: كل صلاة اديت مع كراهة التحريم تجب اعادتها “ ) واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۲ صفر المظفر ۱۳۹۶ھ صبح الجواب ۔ واللہ تعالی اعلم ۔ الجواب صحیح ۔ واللہ تعالی العلم ۔ الجواب صحیح قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی ۔ فقیر مصطفی رضا قادری غفرلہ ۔ تحسین رضا غفرلہ