دیہات میں جاری جمعہ کو ختم کروانے اور عوام کو روکنے کا شرعی حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ: ایک جگہ دیہات میں لاکھوں کی تعداد میں مسلمان ہیں اور ایک مدت سے وہاں جمعہ ہو رہا ہے اور اب غور طلب بات یہ ہے کہ ایک حافظ بریلی اعلیٰ حضرت کے دارالافتاء سے فتویٰ لے گیا ہے کہ دیہاتوں میں جمعہ جائز نہیں ، یہی فتویٰ لوگوں کو دکھا دکھا کر جمعہ ختم کر رہا ہے اور لوگ فتنے میں پڑ رہے ہیں۔ لہذا علمائے کرام سے سوال ہے کہ از روئے شرع اس نیم حافظ کا فعل کیسا ہے؟ مدلل جواب عنایت فرما ئیں اور دیہاتوں میں جہاں جمعہ ہورہا ہے وہاں جمعہ ختم کرنا صحیح ہے یا غلط؟ جواب مدلل عنایت فرمائیں! المستفتی: عبد الحق اشرفی ، پوست جام نگر، مقام والسلع و مکا بہار
الجواب: فی الواقع دیہات میں جمعہ صحیح نہیں اس کے لئے شہر شرط ہے مگر جہاں پہلے سے عوام پڑھتے آئے ہوں وہاں منع نہ کیا جائے ، کہ آخر خدا کا نام لیتے ہیں جو ایک مذہب پر صیح آتا ہے۔ عوام جس طرح خدا کا نام لیں غنیمت ہے۔ درمختار میں ہے: اما العوام فلا يمنعون من تكبيرات ولا تنفل اصلا لقلة رغبتهم في الخيرات (۲) مگر جولوگ چھوڑ چکے ہیں، انہیں اب کسی طور جائز نہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله