دیہات میں جمعہ و عیدین کا حکم اور ندوہ سے فارغ التحصیل امام کی اقتدا کا مسئلہ
دکاندار آتے ہیں، دو پہر یا سہ پہر ۳ بجے دن میں یا مغرب کے بعد چلے جاتے ہیں ، ایک مسلمان کمہار مٹی کے برتن بنا کر لاتا ہے، ایک احاطہ ہے جس میں پچاس ساٹھ دکانیں ہیں، کچھ دکانیں خالی بھی رہتی ہیں اور ایک پوسٹ آفس بھی ہے، بہت جلد قائم ہوا ہے اور بازار سے کچھ فاصلے پر ایک بہت بڑا زمیندار یا قلعد اررہتا ہے اس کی کوٹھی بنی ہوئی ہے اسی بازار کے باہر ایک مولا نارہتے ہیں جو ندوہ سے فارغ ہیں جب فارغ ہو کر آئے تھے اس وقت سے قریب دو سال تک یا کچھ زیادہ دنوں تک جمعہ پڑھنے کے واسطے دوسری جگہ جاتے تھے، ان کے والد اور ایک حافظ انہی کے ہم خیال مولانا کو جمعہ پڑھانے کے لئے لوگوں نے اجازت نہیں دی تو وہاں جانا بند کر دیا اور اپنے گھر کے سامنے جمعہ قائم کردیا، روزانہ اسی جگہ پر بھینس باندھی جاتی ہے، صرف اس جگہ پر جمعہ پڑھتے ہیں، پنجوقتی نماز ایک بھی نہیں پڑھی جاتی سوائے جمعہ کے۔ کیا یہ جمعہ قائم کرنا صحیح ہے؟ اور نہ وہاں پر کوئی چبوترہ ہے نہ دیوار ہیں، کچی زمین ہے، مولانا مقر ربھی ہیں لیکن مولانا کا عقیدہ مسلمانوں کو پسند نہیں اس لئے ان سے دور رہتے ہیں، مجبوراً مولانا کو اپنی تقریر سنی عقائد کے مطابق کرنا پڑتی ہے، لوگ شادی بیاہ یا میلا د شریف میں اب انہیں مدعو کر لیتے ہیں، مولانا اب صلاۃ وسلام بھی پڑھتے ہیں۔ جواب مدلل عنایت کیجئے گا۔ مستفتی: محمد حنیف، کیراف پیر بخش مکند انگر ، ڈامرکمپنی کے پاس ، دھراوی روڈ ،بمبئی
الجواب: (۱، ۲، ۳) دیہات میں جمعہ وعیدین صحیح نہیں کہ ان کی صحت کے لئے مصر (شہر ) یا فنائے مصر (شہر ) شرط ہے۔ حدیث میں ہے: لا جمعة ولا تشريق ولا صلوة فطر ولا أضحى الا فى مصر جامع او مدينة عظيمة (1) مگر جہاں عوام پہلے سے پڑھتے آئے ہوں، انہیں منع نہ کیا جائے کہ آخر خدا کا نام لیتے ہیں اور اس دن دیہات والوں پر ظہر فرض ہے جو جمعہ پڑھ لینے سے سر سے نہ اترے گا لہذا بعد جمعہ چار رکعت با جماعت به نیت فرض ظہر پڑھ لیں تو بری الذمہ ہو جائیں گے اور نماز پنجگانہ فرض ہے اور جماعت واجب (1) عمدة القاری شرح صحیح البخاری ، ج ۲، ص ٢٧١ كتاب الجمعة ، باب الجمعة في القرى والمدن ۲۷۱، دار الكتب العلمية بيروت كنز العمال ، ج ۸، ص ۱۷۴، حدیث - ۲۳۳۰۵ ، حرف اللام، دار الكتب العلمية بيروت اور ان دونوں میں سے کسی کا تارک اشد گناہ گار مستوجب نار ہے۔ اور ندوی مولا نا جو کہ عقائد کفریہ رکھتا ہے یا دیو بندی وغیرہ کے عقائد کفریہ پر مطلع ہو کر ان بے دینوں کو مسلمان جانتا ہے، کافر بے دین انہی کی طرح ہے، اسے امام بنانا کسی نماز میں ہرگز جائز نہیں کہ اس کے پیچھے نماز باطل محض ہے۔ فتح القدیر میں امام محمد علیہ الرحمہ سے ہے : ” ان الصلاة خلف اهل الاهواء لا تجوز ) واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ صح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی ۲۸ / جمادی الآخره ۱۴۰۲ھ