دیہات میں جمعہ کی عدم جواز اور نماز ظہر کی فرضیت سے متعلق مسئلہ
علمائے دین ومفتیان شرع متین کیا فرماتے ہیں اس مسئلہ میں کہ: موضع سینا پور تحصیل فرید پور ضلع بریلی شریف کی مسجد میں جمعہ پہلے سے ہوتا آیا ہے، جمعہ کے دو فرض پڑھنے کے بعد چار سنتیں ادا کرتے تھے۔ اب کچھ دن سے جمعہ کے دو فرض پڑھ کر چار فرض ادا کیے جاتے ہیں اور گاؤں میں جمعہ فرض ہے یا نہیں؟ یہ معلوم ہونا ضروری ہے۔ (1) لوگ اس طرح پڑھنے پر اعتراض کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جو بات ہو وہ بیچ معلوم ہونی چاہئے اور وہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ نیا طریقہ ہے، کہاں پر لکھا ہوا ہے؟ ہم کو اس کی صحیح سے خبر دینا چاہئے اور مفتی اعظم ہند صاحب کی مہر ہونا ضروری اور جو آپ لکھ دیں گے وہ بات ہم کو منظور ہے۔ (۲) اور کچھ لوگ کہتے ہیں کہ بعد کو فرض نہ پڑھنا چاہئے فرض کے لئے ایک وقت مقرر کر لو۔ اگر جمعہ کے بعد فرض پڑھتے رہو گے تو گناہ ہے۔ فقط ! المستلقيی : رحمت حسین ، موضع سینا پور ضلع بریلی شریف
ہمارے مذہب مہذب حنفی میں دیہات میں جمعہ صحیح نہیں ، ہمارے یہاں صحت جمعہ کے لئے شہر یا فنائے شہر شرط ہے۔ حدیث میں ہے: (1) لاجمعة ولا تشريق ولا صلوة فطر ولا أضحى الا فى مصر جامع او مدينة عظيمة ) اس دن دیہات والوں پر ظہر فرض ہے، جو جمعہ پڑھ لینے سے سر سے نہ اترے گا مگر جہاں پہلے عمدة القاری شرح صحیح البخاری، ج ۲، ص ۲۷۱ ، كتاب الجمعة ، باب الجمعة في القرى والمدن، دار الكتب العلمية بيروت كنز العمال ، ج ۸، ص ۱۷۴، حدیث - ۲۳۳۰۵ ، حرف اللام، دار الكتب العلمية بيروت جمعہ قائم ہو وہاں منع کرنا مناسب نہیں کہ خدا کا نام لیتے ہیں منع کرنے سے کہیں چھوڑ نہ بیٹھیں ، البتہ انہیں حکم ہے کہ بعد جمعہ چار رکعت به نیت فرض ظہر یا جماعت پڑھ لیا کریں " کچھ دن سے جو فرض ظہر پڑھنے کا معمول ہو گیا ہے ، صحیح ہے، اسے غلط بتانا غلط ہے اور جو غلط کہتے ہیں، گناہ گار ہیں ان پر تو بہ لازم کہ تائب ہوں اور رجوع کریں۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی ۱۹ رشعبان المعظم .. ۱۴۰۰ھ