تراویح کی ہر چار رکعت کے بعد بلند آواز سے تسبیح اور ذکر خلفائے اربعہ کا حکم
کیا فرماتے ہیں علماے دین و مفیان شرع متین مسئلہ ھذا میں کہ ہمارے یہاں نماز تراویح میں تکبیرات بآواز بلند پوری جماعت ایک ساتھ پڑھتے ہیں جسکے الفاظ با ترتیب یہ ہیں۔ پہلی دو رکعت کے بعد بآواز بلند یہ الفاظ پڑھتے ہیں فـــضــل مـن الـلـه نـعـمـة ومغفرة ورحمة لا اله الا الله والله اكبر ولله الحمد پھر چوتھی رکعت ختم ہونے کے بعد سبحان ذی الملک والملکوت الخ بآواز بلند پڑھتے ہیں امام صاحب کے دعا مانگنے کے بعد پہلی چوتھی رکعت میں نبینا محمدن البدر صلوا عليه صلى الله عليه وسلم لا اله الـلـه والـلـه كبر الله اکبر ولله الحمد دوسری چوتھی رکعت میں سبحان و دعا کے بعد خليفة رسول الله بالتصديق والتحقيق قاتل الكفرة والزناديق امير المؤمنين و امام المتقين سيدنا ابو بكرن الصديق رضى الله تعالى عنه لا اله الا الله الخ ۔ اسی طرح خلفاء اربعہ کو شامل کر کے سبحان ذی الملک والملکوت اور امام کی دعا کے بعد سب پڑھتے ہیں پہلی چوتھی رکعت میں جیسا کہ اوپر یہاں ہے حضور کے بارے میں بآواز بلند پڑھتے ہیں دوسری چوتھی رکعت میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شان میں پڑھتے ہیں تیسری چوتھی رکعت میں حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شان میں چوتھی چار رکعت کے بعد حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شان میں پانچویں چار رکعت کے بعد حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شان میں دریافت طلب امر یہ ہے کہ ایسا پڑھنا تراویح کے درمیان کہاں تک درست ہے اور مسجد میں بلند آواز سے ان تمام تسبیحات کا پڑھنا کہاں تک درست ہے؟ جواب سے نوازیں۔ بینوا توجروا! نوٹ :- ان تمام تسبیحات و خلفائے اربعہ کے قصیدے کولوگ بآواز بلند پڑھتے ہیں ۔ المستفتی: مولا نا عبد الرحمن قادری امام مسجد ہرسول متعلقہ پیٹھ ضلع ناسک مہاراشٹر
الجواب: تکبیرات مذکورہ یہ کیفیات مذکورہ میں حرج نہیں اور یہ آواز بلند پڑھنا بھی درست ہے کہ ہمارے علمائے کرام بلکہ جملہ علما کا اتفاق ہے کہ مسجد میں ذکر جہر جبکہ نمازی یا سوتے آدمی یا تلاوت کرنے والے کے لئے تشویش کا باعث نہ ہو جائز ہے۔ رد المحتار میں ہے: اجمع العلماء سلف و خلفا على استحباب ذكر الجماعة في المسجد وغيرها الا ان يشوش جهرهم على نائم او مصل او قاری۔ اھ () واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۲۷ / رمضان المبارک ۱۳۹۶ھ (1) ردالمحتار، ج ۲، ص ۴۳۴، کتاب الصلوۃ، با ما يفسد الصلوة، وما يكره فيها، دار الكتب العلميه بيروت