ظہر کی فرض نماز سے پہلے چار رکعت سنت مؤکدہ ہونے کا بیان
سوال
ظہر کی نماز میں فرض سے پہلے چار رکعت سنت مؤکدہ ہے! علمائے دین کیا فرماتے ہیں اس مسئلہ میں کہ: حضور حدیث سے دیکھ کر جواب دیں کہ ظہر کی نماز میں فرض ظہر سے پہلے کی چار سنت مؤکدہ ہیں یا غیر مؤکدہ ہیں، جواب سے آگاہی فرما ئیں ۔ عین نوازش ہوگی ۔ فقط ۔ والسلام آپ کا خادم: محمد رضا خاں علی گنج
الجواببِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّاب
الجواب: مؤکدہ ہیں، نور الایضاح و مراقی الفلاح میں ہے: سن سنة مؤكدة اربع قبل الظهر لقوله صلى الله عليه وسلم من ترك الاربع قبل الظهر لم تنله شفاعتی کذا فی الاختیار (۱) واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۱۳/ ذوالحجہ ۱۴۰۰ھ
دار الافتاءبریلی
کتبہ: حضور تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خان قادری ازہری
صدر مفتیِ ہند، دار الافتاء بریلی
مأخذ: فتاویٰ تاج الشریعہ، جلد ۴ · صفحہ ۱۹۶
اسی باب کے متعلقہ فتاویٰ
تراویح میں سورہ اخلاص تین بار پڑھنا اور وتر میں مخصوص سورتوں کی تلاوت
باب: کتاب الصلوٰۃ
تراویح کی ہر چار رکعت کے بعد بلند آواز سے تسبیح اور ذکر خلفائے اربعہ کا حکم
باب: کتاب الصلوٰۃ
عصر کے بعد نوافل کی ممانعت اور بیٹھ کر نوافل پڑھنے کا حکم
باب: کتاب الصلوٰۃ
دیہات میں نماز جمعہ کی عدم صحت اور بعد جمعہ ظہر کی باجماعت ادائیگی کا حکم
باب: کتاب الصلوٰۃ
تراویح میں ایک بار ختم قرآن سنت مؤکدہ ہے اور اس کا انکار ضلالت ہے
باب: کتاب الصلوٰۃ