عصر کے بعد نوافل کی ممانعت اور بیٹھ کر نوافل پڑھنے کا حکم
عصر کے بعد نوافل پڑھنا منع ہے انوافل بیٹھ کر پڑھ سکتے ہیں، کھڑے ہو کر پڑھنا افضل ہے! علمائے کرام کیا فرماتے ہیں : (۱) زید عصر و مغرب کے درمیان نوافل پڑھتا ہے، بکر نے منع فرمایا تو زید نے کہا کہ عبادت کسی وقت منع نہیں ۔ آیا زید کا قول صحیح ہے یا نہیں؟ (۲) وقت نماز کے علاوہ دیگر نوافل بیٹھ کر پڑھنا سنت ہے یا کھڑے ہو کر؟ اگر بیٹھ کر پڑھے درست، جائز ہوں گے یا نہیں؟ اور عشاء ،ظہر ، مغرب، کے نوافل بیٹھ کر پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟ زید کا قول ہے
بیٹھ کر پڑھنے سے نہیں ہوں گے کیونکہ قیام فرض ہے۔ الجواب: کتنا الصلوة / باب الوتر والنوافل المستفتی : رحمت اللہ ، پیلی بھیت (۱) عصر کے بعد نوافل منع ہے۔ زید کا قول غلط ہے، تو بہ کرے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) نوافل بیٹھ کر بھی پڑھ سکتے ہیں ، کھڑے ہو کر افضل ہے، زید کا نوافل میں قیام کو فرض بتانا غلط ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم حدیث میں ہے: ان صلى قائما فهو افضل الحديث (۱) فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۱۰ رشوال المکرم ۱۳۹۷ھ لقد اصاب من اجاب۔ واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی دارالافتاء منظر اسلام، بریلی شریف (1) بخاری شریف ، ج ۱، ص • ابواب تقصير الصلوة ، باب صلوة القاعد مجلس بركات