تراویح میں ایک بار ختم قرآن سنت مؤکدہ ہے اور اس کا انکار ضلالت ہے
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ : ہماری مسجد کا متولی تراویح میں ختم قرآن کریم کا منکر ہے جبکہ مسجد کے نانوے فیصد مصلیان خستم قرآن کے خواہشمند ہیں۔ اس سلسلہ میں متولی سے بہت جھگڑا ہوا یہاں تک کہ کیس وغیرہ کی نوبت آگئی متولی فاسق معلن ہے، نمازہ ہو گا نہ نہیں پڑھتا ہے اور مسجد کا امام بھی متولی کے دوش بدوش ہے اور یہ امام روزہ بھی نہیں رکھتا ہے۔ لہذا ایسا شخص مسجد کی تولیت کا اہل ہے یا نہیں؟ اور ایسا امام لائق امامت ہے یا نہیں؟ از روئے شرع جواب مرحمت فرمائیں۔ المستلتی: ڈاکر بھائی و جملہ مسلمان نگینه مسجد ایچ اے ڈائنگ تار والی گلی ، جیت پور، مہاراشٹر
الجواب: ایک بارختم قرآن تراویح میں سنت مؤکدہ ہے جسے لوگوں کی ستی کی وجہ سے چھوڑ نا منع ہے۔ ہند یہ وعامۃ الکتب میں ہے: واللفظ للهندية السنة فى التراويح انما هو الختم مرة فلايترك لكسل القوم كذا فی الکافی (۲) اور اس کا انکار ضلالت وگمراہی ہے، جو شخص اس کا منکر ہے وہ شرعاً متولی رہنے کا مستحق نہیں بلکہ اسے معزول کرنا اہل قدرت پر واجب ہے۔ در مختار میں ہے : وينزع وجوبا لو الواقف فغيره بالا ولی درر و غیره مامون او ظهر به فسق الخ ملخصا (۱) اور وہ امام بھی جو کہ اس کے شریک حال ہے بر تقدیر صدق سوال و ثبوت جرم فاسق معلن ہے، اسے امام بنانا گناہ اور اس کی اقتدا مکروہ تحریمی اور نماز اس کے پیچھے واجب الاعادہ ہے۔ غنیہ میں ہے: ”لو قدموا فاسقاياثمون (۲) ،، در مختار میں ہے : کل صلاۃ ادیت مع كراهة التحريم تجب اعادتها (۳) واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم ۲۶ / رمضان المبارک ۱۴۰۴ھ قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی