زکوۃ کے نصاب، بینک نفع کے استعمال اور مستحق زکوۃ کے یہاں کھانے کا حکم
(۴) اس سے چند سال قبل زکوۃ کا فتویٰ منگایا، اس میں درج تھا جس کے پاس ساڑھے سات تولہ کی بجائے سات تولہ پانچ ماشہ سونا ہونے پر یا ساڑھے باون تولہ چاندی کی بجائے باون تولہ پانچ ماشہ ہوگی تو زکوۃ واجب نہ ہوگی۔ اب کی مرتبہ لکھا تھا تو جواب ملا اگر سونا اتنا ہے کہ چاندی کی مقدار کو پہنچ جائے تو ز کو ۃ واجب ہو جاتی ہے تو یہ ساتھ تولہ پانچ ماشہ اور باون تولہ پانچی ماشہ کس جگہ پر موضوع ہوتا ہے؟ اور اگر کسی کے پاس سونا چاندی نہ ہوتو کم ازکم کتنی رقم پر ز کو ۃ واجب ہوتی ہے؟ (۵) اگر کوئی شخص اپنے روپیہ کو بینک میں اس سلسلے میں جمع کرتا ہے کہ یہ رقم بھی سیف رہے جس سے آگے بچوں کے کام آئے اور سالانہ جو نفع بینک سے ملتا ہے اس پر اپنی گزر کرتا یا کرتی رہے گی ، ایسا کرنا کیا معنی رکھتا ہے؟ (1) جس کے یہاں زکوۃ دی جاتی ہے، کیا اس کے یہاں خود اس کے کھانے پینے میں کوئی ممانعت تو نہیں ہے؟ جبکہ یہ معلوم ہے کہ زکوۃ اس کو دیتا ہوں اور یہ ان پیسوں سے بھی اپنے خرچ کی چیز منگاتے ہیں ۔ فقط ۔ والسلام
الجواب: المستلقی : ایم یونس شمسی ، اوران پور ضلع پیلی بھیت (1) سامع ہونا بہتر ہے اور نہ ہو تو حرج نہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) انہوں نے غلط کہا تو بہ کریں۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) دونوں طرح پڑھنا روا ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۴) رقم جبکہ نصاب کی قیمت کے برابر ہو تو زکوۃ واجب ہوگی بشرطیکہ فاضل حاجت اصلیہ اور دین سے ہو پچھلے فتوی کی نقل بھیجے۔ واللہ تعالی اعلم (۵) جائز ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (1) ممانعت نہیں کہ ملک بدل گئی ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۱۴/ ذوالحجہ ۱۴۰۲ھ