فجر کی سنتیں چھوڑنے والے اور جماعت میں تاخیر سے آنے والے کا حکم
بدگمانی حرام ہے اے تحقیق کسی کی طرف گناہ کی نسبت جائز نہیں اتارک سنت مؤکدہ گناہگار ہے! کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ: زید کا مکان مسجد سے قریب ہے لیکن مسجد میں فجر کی اذان وصلاۃ ہو جانے پر آتا ہے اور نماز جماعت میں شریک ہو کر یعنی نماز سے مکمل فارغ ہو کر چلا جاتا ہے، سنت نہیں پڑھتا ہے۔ لہذا زید کے لئے کیا حکم شرع ہے؟ جواب عنایت فرمایا جاوے۔ المستففى : سخاوت حسین محله ملوکپور بریلی شریف
الجواب: یہ کیسے معلوم ہوا کہ وہ سنت نہیں پڑھتا ہے ممکن کہ وہ گھر میں پڑھ کے آتا ہوا اگر اس کی منشا محض حمان ہے تو بد گمانی حرام ہے۔ اور از روئے گمان ہے تحقیق کسی کی طرف کسی گناہ کی نسبت جائز نہیں۔ لاتجوز نسبة مسلم الى كبيرة من غير تحقیق کذافی الاحیاء الامام الغزالی ) اور اگر یہ ثبوت شرعی ثابت کہ وہ سنت فجر نہیں پڑھتا ہے تو البتہ گناہ گار ہے کہ سنت کے ترک کی عادت گناہ ہے اور اس پر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ترقی درجات سے محرومی کی وعید وارد ہے۔ حدیث میں ہے: ” من تركها لم تنله شفاعتی (۲) “ جو میری سنت کو چھوڑے، میری شفاعت نہ پائے۔ علمائے کرام نے فرمایا کہ حدیث فضیلت شفاعت سے محرومی پر محمول ہے بدلیل آنکہ دوسری حدیث میں ہے: ” شفاعتي لأهل الكبائر من امتى (۳) “ میری شفاعت میری امت کے کبیرہ گناہوں میں مبتلا ہونے والوں کیلئے ہے اور یہ بھی اس وقت ہے جب کہ سنت کو معاذ اللہ ہلکا نہ جانا ہو ورنہ حقیقہ تارک سنت محروم عن الشفاعۃ ہے اور اب وہ مرتکب کبیرہ سے بھی بدتر ہے کہ ترک بنیت استخفاف کفر ہے۔ والعیاذ باللہ ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صبح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم ۱۹ رشوال المکرم ۱۳۹۶ھ قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی