نفل کی جماعت اور فجر کی نماز کے بعد نفل پڑھنے کی ممانعت کا حکم
رات چھوٹی ہونے کی وجہ سے یہ اختیار کیا گیا تھا کہ بعد مغرب ساڑھے سات بجے جبکہ عشاء کا وقت شروع نہیں ہوا تھا نفل نماز میں قرآن پاک شروع کر دیا گیا تھا۔ ۵ رسپارے پڑھنے کے بعد عشاء کی اذان کہہ کر نماز ادا کی گئی اور پھر تراویح کی ۲۰ رکعت چھوٹی چھوٹی آیتوں کے ساتھ پوری کر لی گئیں ۔ بعدہ پھر قرآن شریف نفل نماز میں پڑھا گیا اور فجر کی نماز کا وقت ہونے کے بعد ۲ سپارے پڑھ کر فجر کی اذان کہی گئی، نماز ادا کی گئی اور پھر ایک سپارہ باقی رہ گیا تھا۔ حافظ صاحب نے تکبیر کہہ کر ہاتھ باندھ لیے اور آخری سپارہ پڑھ کر کھڑے کھڑے سلام پھیر دیا، رکوع و سجدہ اور سجدہ تلاوت اس لئے نہیں کیے گئے کہ نماز فجر کی ادائیگی کے بعد طلوع آفتاب تک کوئی سجدہ نہیں کیا جا سکتا ہے۔ یہی دریافت کرنا ہے کہ اس طرح قرآن پڑھنا درست تھا یا نہیں ؟ جواب باصواب سے جلد مطلع فرما کر شکریہ کا موقع بخشیں۔ فقط ۔ والسلام مستفتی: اے اے انصاری محلہ چھٹی ، پوسٹ تر و گنج ضلع فرخ آباد (یوپی)
الجواب: عشاء سے پہلے جو نفلوں کی جماعت کی گئی وہ جماعت مکروہ ہوئی کہ نقل کی جماعت بر تداعی مشروع نہیں ہوئی ہے یوں ہی بعد تراویح نفل کی جماعت کراہت سے خالی نہیں۔ طلوع فجر کے بعد دورکعت سنت مؤکدہ کے علاوہ کوئی نفل جائز نہیں تو یہاں دو قباحتیں ہوئیں، ایک تو نفل بر تداعی پھر نفس نفل اس وقت ناجائز اور بعد فرض فجر بھی نفل نامشروع ۔ غرض اس طور پر وہ شبینہ جائز نہ تھا۔ والمولیٰ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۳۰ رشوال المکرم ۱۳۹۸ھ صح الجواب۔ اور نفل کی نیت کر کے نماز شروع کی اور رکوع سجدہ وغیرہ نہ کیا تو نماز فاسد ہوئی اور دوبارہ پڑھنی واجب کہ نوافل شروع کرنے سے لازم ہو جاتے ہیں۔ بہر حال یہ طریقہ ناپسندیدہ اور کئی خرابیوں پر مشتمل ہے، اس سے احتراز لازم ۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی