خوبصورت امرد کی امامت اور لفظ مکروہ کے مطلق استعمال کی وضاحت
علمائے کرام نے اسے تحریمی ٹھہرایا ہے اور بولتے ہیں جو مطلقاً مکروہ ہے وہ مکروہ تحریمی ہے۔ کیا جن مسائل کو شریعت نے مکروہ کہا ہے اور جن میں مکروہ تنزیہی اور مکروہ تحریمی کی قید نہیں ہے کیا ان تمام مسائل کو مکروہ تحریمی ہی کہا جائے گا؟ جیسے بغیر ٹوپی کے نماز پڑھنا، کھلے سر پیشاب خانے میں جانا، مسجد میں کوئی بات کرنا، اس جیسے کئی مسائل ، کیا یہ تمام مکروہ تحریمی ہیں؟ برائے کرم آپ ہمیں ان مکروہات کا کتابوں کے حوالہ از جلد سے جلد جواب دیں۔ فقط المستفتی: ولی محمد (مؤذن جامع مسجد ) ساکن ضلع باسنی ، ضلع ناگور ( راجستھان)
الجواب: امرد جبکہ خوبصورت ہو، اس کے پیچھے نماز میں کراہت تنزیہیہ ہوگی۔ رد المحتار میں ہے: در مختار میں ہے: ” و کذاتکره خلف امرد - الخ ) الظاهر أنها تنزيهية ايضا والظاهر ايضا كما قال الرحمتى أن المراد به الصبيح الوجه لانه محل الفتنة-الخ‘‘(۲) اور یہ اس صورت میں ہے کہ وہ بالغ ہو ورنہ نماز اس کے پیچھے نہ ہوگی اور یہ صحیح ہے کہ مکروہ جب مطلق بولتے ہیں تو مکروہ تحریمی مراد ہوتا ہے مگر یہ حکم اکثری ہے کبھی تنزیہی کو بھی مطلق مکر وہ کہہ دیتے ہیں اور شرح یا حاشیہ میں تنبیہ کر دیتے ہیں جیسا کہ اس مسئلہ میں در مختار میں مطلق کہا اور شامی نے تنبیہ کر دی اور بے ٹوپی کے نماز پڑھنا جبکہ ستی کے طور پر ہو، خلاف اولیٰ ہے اور اگر تواضع سے ہو تو بہتر ہے اور اگر نماز کو ہلکا جان کر ہو تو کفر ہے اور کھلے سر جانا پیشاب کو ، خلاف اولیٰ ہے اور مسجد میں دنیوی کلام مکروہ تحریمی ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله (۱) الدر المختار، ج ۲، كتاب الصلوۃ، باب الامامة، ص ۳۰۲ ، ۳۰۱ ، دار الكتب العلمية بيروت (۲) ردالمحتار، ج ۲، کتاب الصلوة، باب الامامة، مطلب في امامة الامرد، ص ۳۰۱، دار الكتب العلمية بيروت