تراویح میں قرآن سنانے کی اجرت طے کرنے کے متعلق حافظ صاحب سے مکالمہ اور استفسار
رہتے بھی ہیں، ان کی رمضان شریف سے ایک ہفتہ قبل ہمارے یہاں ایک حافظ صاحب جن کا نام امانت حسین ہے، میلادخواں بھی ہیں، ان سے بات چیت ہوئی کہ آپ کی مسجد میں کوئی حافظ ہوا ہے یا نہیں ؟ انہوں نے کہا کہ ابھی نہیں ہوا ہے، بولے اگر آپ لوگ چاہیں تو پندرہ دن میں پڑھائی ہو جائے گی اور نذرانہ کیا ملتا ہے؟ حافظ صاحب بولے: ۱۰۰ روپے سے زائد ہوتا ہے،منظور ہو تو بھیج دینا۔ حافظ امانت حسین صاحب نے خادم سے کہا اور میں ان کے پاس منگل وقت عشاء گیا اور میں سلام کر کے حافظ صاحب سے بولا کہ آپ کی حافظ امانت حسین صاحب سے بات چیت ہوئی تھی ؟ انہوں نے کہا کہ ابھی نہیں ہوئی ہے۔ بولے کہ میاں اندر آ جاؤ ، میں مسجد میں گیا ، بولے آپ مسجد کے متولی ہیں؟ میں نے کہا: ہاں۔ فرمانے لگے کہ دیکھو بھئی ! ہم ۱۴ رمضان کو ختم کر دیں گے، منظور ہے؟ میں نے کہا: منظور ہے،مگر ایک عرض ہے کہ رسم جو ہے وہ ۲۷ ر کو ہو جاوے تو ٹھیک ہے، انہوں نے کہا ٹھیک ہے اب پیسوں کی بھی بات ہو جائے ، آپ کو ۱۲۵ روپے دینے ہوں گے ۔ ہمیں حافظ امانت حسین سے معلوم ہوا ہے، مجھے یہ چیز ناگوار ہو رہی ہے۔ میں نے بات کو کاٹتے ہوئے عرض کیا کہ بات کرنے کا معاملہ ٹھیک نہیں ہے اس سے زائد بھی ہو سکتے ہیں اور اس سے کم بھی ہو سکتے ہیں حالانکہ یہ بات بھی طے کرنے کی ضمن میں آتی ہے مگر اس بات پر وہ تیز رفتار سے بات کرنے لگے، بولے: کم کی بات نہیں مانوں گا ، زائد کی بات ٹھیک ہے، ڈیڑھ دوسو کر دینا، مہربانی ہوگی۔ میں نے پھر عرض کیا کہ میں نہیں کرنا چاہتا ، آپ یہ بات چھوڑیں، اس کے لئے زائد بھی ہو جائیں، اس سے کم بھی یا اتنے ہی ہوں، یہ وقت کی بات ہے، آپ سمجھ سکتے ہیں۔ کہنے لگے: یہ بات کبھی نہیں مانوں گا کہ آپ بات نہ کریں اور یہاں طے کرنا ہو تو اسی وقت طے کرنا ہوگا۔ میں نے کہا کہ جب طے کرنے کا معاملہ ہے تو کل مشورہ لے کر جواب دوں گا۔ بولے بات اسی وقت کی ہے، آپ کو اسی وقت طے کرنا ہو گا۔ ورنہ میں خود نہیں مانوں گا ، ایک لڑکے کو بھیج دوں گا۔ میں نے پھر عرض کیا: یہ بار بار طے کرنے کی بات نہ کریں ، حضور مفتی اعظم ہند کے پرچے میں طے کر کے پڑھانے اور سننے کو منع فرمایا ہے۔ بولے: کون کہتا ہے؟ اجرت وقت کی طے کر سکتے ہیں، ان کے شاگرد نے جلد سے پرچہ نکالا ، بولا: یہ دیکھو! کہا دیکھو! حافظ صاحب نے کہا: ہمارے پاس وقت نہیں ہے، میلاد شریف پڑھنے جا رہے ہیں، پھر بولے: طے کرنا ہے تو بات کریں ورنہ فوراً تشریف لے جائیں۔ مجھ سے پڑھوانے آئے تھے، میں تو ڈھائی سو روپیہ پر طے ہو گیا ہوں اور دونوں طرف سے رکشا کا کرایہ۔ مجھ سے
الجواب: تراویح کی اجرت طے کرنا ناجائز وحرام ہے اس پر جھگڑنا اور بداخلاقی سے پیش آنا حرام در حرام ہے اور اس لڑکے کا یہ کلمہ کہ تم ایک آیت کی قیمت نہیں دے سکتے ہو، بہت سخت ملعون ہے، اس پر اور سب پر جنہوں نے اس کلمہ کو بُرا نہ کہا، تو بہ لازم ہے۔ تراویح پڑھانے والا حافظ اگر خالصاً لوجہ اللہ پڑھانے والا نہ ملے تو چارہ کار یہ ہے کہ اسے اتنے وقت کے لئے ملازم رکھ لیں کہ اس میں جو چاہیں گے کام لیں گے یا پہلے سے کہہ دیں کہ کچھ نہ دیں گے پھر حافظ کی خدمت کرتے ہیں تو اس میں حرج نہیں ہے۔حاشیہ درمختار میں ہے: ” الصريح يفوق الدلالة ) واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۵ / رمضان المبارک ۱۳۹۷ھ صبح الجواب ۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی