نماز کسوف کا طریقہ اور اوقات مکروہہ میں تلاوت کا حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین دریں مسئلہ کہ : (1) قدوری میں کنز الدقائق میں نماز کسوف نماز وتر نفل کی طرح پڑھنے کا ذکر ہے اور ابھی ابھی میرے پیر ومرشد کا فتاویٰ مصطفویہ چھپا ہے جس میں حصہ دوم پہ اس نماز کو سنت کے مطابق پڑھنے کا ذکر ہے اور بہار شریعت وغیرہ میں اصل کیا ہے؟ اور اس میں اور اس میں حقیقت کیا ہے؟ جلد جواب دیں۔ (۲) اور دوسرا مسئلہ یعنی اوقات مکروہ میں کلام مجید کی تلاوت کے بارے میں فتاویٰ رضویہ میں ان اوقات میں تلاوت مکر وہ نہیں ہے۔ اصل کیا ہے؟ مطلع فرمائیں اور مفتی اعظم ہند کو میری طرف سے سلام عرض کریں اور آپ کی طبیعت کا حال لکھیں ۔ فقط ۔ والسلام المستفتی: ولی محمد (مؤذن ) جامع مسجد، باسنی، ناگور ( راجستھان)
نماز کسوف سنت مؤکدہ ہے اور نفل کی طرح پڑھی جائے! اوقات مکروہہ میں تلاوت خلاف اولیٰ ہے! (1) نماز کسوف سنت مؤکدہ ہے اور نفل کی طرح پڑھی جائے، فرمانے کا معنی یہ ہے کہ جس طرح اور سنن ونوافل پڑھے جاتے ہیں، ہمارے مذہب میں نماز کسوف بھی اسی طرح پڑھی جائے گی ، برخلاف امام شافعی کے، چنانچہ کنز و تبیین میں ہے: يصلى ركعتين كالنفل امام الجمعة واحترز بقوله كالنفل عن قول الشافعي فان عنده في كل ركعة ركوعين (1) (۲) اوقات مکروہہ میں تلاوت خلاف اولیٰ ہے، مکروہ و ممنوع نہیں بلکہ ردالمحتار میں بغیہ سے وہ نقل کیا جس سے مستفاد ہوتا ہے کہ اصلاً کراہت نہیں۔ (فالاولی) ای فالافضل ليوافق كلام البغية فان مفاده انه لا كراهة اصلا لان ترک الفاضل لاكراهة فيه (۲) فتاوی رضویہ میں بھی مکروہ نہ لکھا ہوگا۔ آپ فتاوی رضویہ کی عبارت تحریر کر کے بھیجیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۱۹ ؍ جمادی الآخر ۱۴۰۰ھ صبح الجواب ۔ واللہ تعالیٰ اعلم/ قاضی عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی