تراویح میں ہر چار رکعت کے بعد خلفائے راشدین کے ناموں کا ورد کرنے کا حکم
گزارش کی جاتی ہے کہ خادم ایک چھوٹے سے گاؤں کا رہنے والا ہے، عمل سے کورہ اور علم سے کوتاہ ہے۔ ایک مسئلہ ہمارے یہاں کی مسجد میں اُٹھایا گیا ہے جو حسب ذیل تحریر کر رہا ہوں، امید کہ عالیجناب اہلسنت و جماعت کی روشنی میں اس کا تفصیلی جواب مع ہجری اور ائمہ کے احکام کے ساتھ تحریر فرمائیں گے کیونکہ یہ مسئلہ ہمارے لئے جھگڑے کی نوبت پیدا کر دیا ہے۔ سوال: ہمارے یہاں پر ماہ رمضان میں تراویح چار رکعت ختم دعا کے بعد خلفائے راشدین کے نام لیے جاتے ہیں اس طرح میں رکعت نماز تراویح پڑھتے ہیں، چار رکعت کے چار خلفائے راشدین کے نام بڑے احترام کے ساتھ لے جاتے ہیں۔ یہ عمل برسوں سے ہورہا ہے، اس سال ہماری مسجد میں ایک مدرس صاحب نے ایک خطبے میں کہا کہ نماز تراویح میں چاروں خلفائے راشدین کے نام نہ لیے جائیں، کیا امام صاحب کی بات صحیح ہے؟ اگر ہے تو مجھے مع حوالہ بتلائیں، ان کی ضد ہے ہمارے پاس اس کا کوئی جواب نہ ہونے کی وجہ سے تراویح میں خلفائے راشدین کے نام روک دیے گئے ہیں۔ جناب عالی سے گزارش کرتا ہوں کہ مع حوالہ اور ثبوت اس کا تفصیلی جواب دیں تو آپ کا احسان عظیم ہوگا۔ شدت سے انتظار کرتا ہوں ، اہلسنت و جماعت کا ایک رسالہ میرے نام سے ہر ماہ روانہ کریں تو مہر بانی ہوگی۔
الجواب: خلفائے راشدین کے اسمائے گرامی کا ورد کرنے میں حرج نہیں منع کرنا بیجا ہے، حوالہ اسی سے پوچھا جائے کہ ممانعت کہاں آئی ہے؟ دکھائے اور بہتر یہ ہے کہ ہر چار رکعت پر سبحان ذی العزة والعظمة پڑھی جائے ۔واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۲۲ رشوال المکرم ۱۳۹۶ھ