بے علم مسئلہ بتانا جائز نہیں! جھوٹے کو امام بنانا کیسا؟
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ : (1) جو شخص ان پڑھ ہو کر لوگوں کو مسائل بتائے اور کسی حق اور جائز مسئلہ کو اپنی ذلت و رسوائی ہونے کی وجہ سے تسلیم نہ کرے وہ شخص کیسا ہے؟ (۲) جو شخص کثرت سے جھوٹ بولے، اس کے پیچھے نماز پڑھنا، اس کو امام بنانا کیسا ہے؟ جواب بالتفصیل عنایت فرما ئیں ۔ فقط ۔ والسلام المستفتی محمد زاہدالرحمن، محلہ گڑھیه متصل پنجابیان اسکول، بریلی
الجواب: (1) ان پڑھ بے علم کو بغیر جانے مسئلہ شرعیہ بتانا جائز نہیں۔ حدیث میں ہے: ایسے پر زمین و آسمان کے فرشتوں کی لعنت ہے۔ ہاں، جو مسئلہ شرعیہ صحیح صحیح بتا سکتا ہے، اس کے بتانے میں کوئی حرج نہیں اور مسئلہ شرعیہ پر ضد کرنا حرام ہے تو بہ لازم ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) گناہ ہے اور نماز کا اعادہ واجب۔ غنیہ میں ہے: لوقدموا فاسقاياثمون (1) در مختار میں ہے: کل صلوٰة ادیت مع کراهة التحریم تجب اعادتها (۲) واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۵ رشوال المکرم ۱۳۹۶ھ الا جو بہ کلہا صحیحہ ۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی