امام کا نماز جنازہ میں شرکت نہ کرنا، زکوۃ و صدقات لینا اور وقت سے پہلے اذان و نماز کے متعلق احکام
ہے؟ مندرجہ بالا کا جواب مدلل و مفصل عنایات فرما ئیں ۔ عین کرم ہوگا
الجواب: المستفتيان: فیاض خاں، نبی احمد سکیندر، اقرار علی محمد حسین ، بھورا، جمیل احمد ، انور علی ، موضع گوگھاٹ ضلع نینی تال (1) امام مذکور کو ایسانہ کرنا چاہئے بلکہ نماز جنازہ کے لئے وقت نکال کر اس میں شرکت کرنا چاہئے اور نماز پڑھانا چاہئے اور اگر عدیم الفرصتی کا عذر جھوٹا ہونا ثابت ہو تو امام سخت ملزم ہے اور امامت کے لائق نہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) اگر واقعی فرصت نہیں تو الزام نہیں ورنہ سخت گنہ گار ہے کہ جھوٹ کا مرتکب ہوتا ہے اور اگر یہ بہانہ بر بنائے فساد و عقیدہ وہابیت ہو تو اس کی اقتدا اور اس کی صحبت سے شدید احتر از فرض ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) اگر وہ صاحب نصاب ہے تو اسے زکوۃ و فطرہ وعشر وغیرہ صدقات واجبہ لینا حلال نہیں بلکہ اسے زکوۃ فطرہ ادا کرنا واجب ہے اور صدقات نافلہ بے مانگے لینا جائز ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم اور اگر صاحب نصاب نہیں مگر بقدر کفایت کما سکتا ہے تو اسے سوال جائز نہیں، بے مانگے جو کچھ ملے ، اسے حلال ہے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۴) اگر لوگ بخوشی دیتے ہیں تو حرج نہیں اور اگر وہ سوال کرتا ہے تو ملزم ہے جبکہ بقدر کفایت کما سکتا ہواور وہ جوڑا وغیرہ اسے حلال نہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۵) صلاة جائز و مستحسن ہے، اس سے منع نہ کرے گا مگر وہابی بے دین ۔ امام مذکور کی وہابیت اس سے ظاہر مزید اس کے عقائد کی تحقیق کی جائے اور برتقدیر ثبوت وہابیت اس کی اقتدا میں نماز باطل محض ہے اور اس کی اقتدا سے شدید پر ہیز کریں۔ واللہ تعالی اعلم (۷) میت کو بے جنازہ پڑھے دفن کرنا نہ چاہئے تھا، عوام میں جوشخص لائق امامت تھا اسے امام کرتے اور ضرور ضرور پڑھ لیتے ، اس میں تاخیر جائز نہ تھی کہ نماز جنازہ فرض کفایہ ہے جس میں تاخیر کی وجہ سے سب گنہ گار ہوئے ، تو بہ کریں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۸) وقت سے پہلے اذان دینا اور نماز پڑھنا حرام ہے اور فرض اس طرح سر سے نہ اترا، اس نماز کا اعادہ فرض ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۹) وہ لوگ اشد گنہ گار مستوجب نار ہیں، تو بہ کریں اور نماز پڑھیں اور جتنی نمازیں قضا ہوئیں ،جلد ادا کریں۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۹ رذی الحجہ ۱۴۰۲ھ وَمَا تُقَيّ مُو الأَنْفُسِكُمْ مِنْ خَيْرٍ تَجِدُوهُ عِنْدَ اللهِ جو بھلائی آگے بھیجو گے اسے اللہ کے یہاں پاؤ گے۔(۱)