بے طلاق نکاح ثانی حلال نہیں اور نسبندی کرانے والے کی امامت کا حکم
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ: (1) ناہدہ آج ہیں سال سے میکہ میں پڑی ہے اس کا شوہر نان نفقہ بھی نہیں دیتا اور نہ بھی پوچھتا ہے اور نہ طلاق دیتا ہے۔ ایسی صورت میں ناہدہ کیا کرے ذریعہ معاش کا بغیر نکاح کے حل ہونا دشوار ہے ایسی حالت میں نکاح ثانی کر سکتی ہے یا نہیں؟ (۲) حامد نے اپنی مرضی سے نسبندی کرایا ہے اور وہ امامت کرتا ہے اس کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے یا نا جائز ؟ المستفتی : عبدالحفیظ ، فابرگا ضلع منجل پر
الجواببِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّاب
الجواب: (۱) نہیں اس سے جس صورت بنے طلاق لیں خواہ کچھ دیکر یا مہر معاف کر کے یا حاکم کے جبر وکراہ سے زبانی طلاق کہلوالیں پھر بعد انقضائے عدت دوسرے سے نکاح حلال ہوگا واللہ تعالیٰ اعلم (۲) جب تک تو بہ نہ کر لے اسے امام بنانا گناہ ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۵ محرم الحرام ۱۳۹۹ھ
دار الافتاءبریلی
کتبہ: حضور تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خان قادری ازہری
صدر مفتیِ ہند، دار الافتاء بریلی
مأخذ: فتاویٰ تاج الشریعہ، جلد ۴ · صفحہ ۱۶۱
اسی باب کے متعلقہ فتاویٰ
قربانی کی کھال کے پیسوں کا استعمال، نس بندی شدہ کی امامت اور دیہات میں عیدین کا حکم
باب: کتاب الصلوٰۃ
جاندار کی تصویر سازی کی حرمت، بے پردہ بیوی والے امام اور داڑھی منڈے امام کی اقتدا کا حکم
باب: کتاب الصلوٰۃ
پانچویں رکعت کے لیے کھڑا ہونا اور بدعقیدہ فرقوں کی نماز جنازہ پڑھنے کا حکم
باب: کتاب الصلوٰۃ
بے علم مسئلہ بتانا جائز نہیں! جھوٹے کو امام بنانا کیسا؟
باب: کتاب الصلوٰۃ
جو بد عقیدگی کی باتیں کرے، لائق امامت نہیں ! جس نے اعمال بد سے توبہ کرلی ، اس کی امامت درست ہے!
باب: کتاب الصلوٰۃ