جو بد عقیدگی کی باتیں کرے، لائق امامت نہیں ! جس نے اعمال بد سے توبہ کرلی ، اس کی امامت درست ہے!
سوال
علمائے کرام کیا فرماتے ہیں کہ : (۱) ہمارے محلہ میں جو پیش امام امامت کرتے ہیں ان کے خیالات ہمیشہ بھٹکتے رہتے ہیں اور کوئی سند سے سوال کیا جائے تو جواب دینے کے بجائے گرم گرم بحث پر اتر آتے ہیں۔ ایسے امام کے پیچھے نماز ہوگی یانہیں (۲) ایسے پیش امام جو کہ امامت کے دوران برے اعمال ( گناہ کبیرہ) میں گرفتار رہتے ہیں مگر اب چند سال سے یہ باتیں نہیں ہیں تو کیا اب ان کے پیچھے نماز ہوگی یا نہیں؟
الجواببِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّاب
الجواب: (1) امام مذکور اگر بد عقیدگی کی باتیں کرتا ہے تو اس کے پیچھے نماز ہرگز جائز نہیں، دوسرا امام سنی صحیح العقیدہ مقرر کریں۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) فی الواقع اگر امام مذکور نے اعمال بد کو چھوڑ دیا ہے اور توبہ کرلی ہے تو ان کی امامت میں حرج نہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۱۹ / رمضان المبارک ۱۳۹۱ھ
دار الافتاءبریلی
کتبہ: حضور تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خان قادری ازہری
صدر مفتیِ ہند، دار الافتاء بریلی
مأخذ: فتاویٰ تاج الشریعہ، جلد ۴ · صفحہ ۱۵۷–۱۵۸
اسی باب کے متعلقہ فتاویٰ
غیر خدا کو سجدہ، زلفوں کی لمبائی، ایک سے زائد انگوٹھیاں اور توہین شریعت کے متعلق امام کا حکم
باب: کتاب الصلوٰۃ
پانچویں رکعت کے لیے کھڑا ہونا اور بدعقیدہ فرقوں کی نماز جنازہ پڑھنے کا حکم
باب: کتاب الصلوٰۃ
بے وجہ شرعی کسی کو طلاق پر مجبور کرنا سخت ظلم ہے، ایسے شخص کو امام نہ بنایا جائے!
باب: کتاب الصلوٰۃ
قربانی کی کھال کے پیسوں کا استعمال، نس بندی شدہ کی امامت اور دیہات میں عیدین کا حکم
باب: کتاب الصلوٰۃ
ہوٹل میں کھانا کیسا ہے؟ بے تحقیق کسی کو غیر مقلد کہنا جائز نہیں !
باب: کتاب الصلوٰۃ