ہوٹل میں کھانا کیسا ہے؟ بے تحقیق کسی کو غیر مقلد کہنا جائز نہیں !
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسائل ذیل میں کہ: (1) کیا کسی پیش امام کا کسی مسلم ہوٹل میں کھانا کھانا منوعات میں سے ہے؟ جبکہ پیش امام کے اہل و عیال اس شہر میں اس کے ہمراہ نہ ہوں ۔ (۲) کوئی پیش امام جبکہ عربی صرف و نحو و فارسی صرف و نحو پر عبور ہو اور حدیثی معلومات ہو و تفسیری مطالعہ بھی کئے ہوئے ہو اور فقہ میں بھی امامت کیلئے کافی معلومات ہو اور میلا دخواں بھی ہو اور سلام محمد تعظیم کے پڑھتا ہو اور جملہ سنی اصول کا مقرر اور عامل ہو اور تجوید میں مستند و ماہر قاری سے مشق کئے ہو کیا ایسے امام کے پیچھے نماز پڑھنے سے انکار کیا جاسکتا ہے؟ یا اس کے عقائد پر غیر مقلدی کا شبہ کیا جا سکتا ہے؟ المستفتی: عباس علی، جامع مسجد اشوک نگر ضلع منا
(۱) نہیں اور اگر بچ سکتا ہو تو بہتر ہے کہ بچے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) اگر وہ شخص وہابیہ دیابنہ وغیر مقلدین کے خیالات باطلہ سے بری و بیزار ہے اور انہیں کا فروگمراہ جانتا مانتا کہتا ہے تو وہ غیر مقلد نہیں اور اسے غیر مقلد گمان کرنا جائز نہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۲۴ رذی الحجہ ۱۴۰۲ھ