غیر خدا کو سجدہ، زلفوں کی لمبائی، ایک سے زائد انگوٹھیاں اور توہین شریعت کے متعلق امام کا حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: (1) ایک امام مسجد جو اپنے آپ کو ایک طرف سنی صحیح العقیدہ کہتے ہیں، دوسری طرف یہ کہتے ہیں کہ قبروں کو تعظیماً سجدہ کرنا جائز ہے۔ (۲) عورتوں کی طرح زلفیں گردن کے نیچے پشت پر لٹکتی ہیں اور کہتے ہیں کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم بھی اسی طرح زلف رکھتے تھے۔ (۳) بیک وقت چار انگوٹھیاں پہن رکھی ہیں ، جب ان کو یہ بتایا گیا کہ ایک انگوٹھی جو ساڑھے چار ماشہ سے کم ہو، پہننا جائز ہے تو انہوں نے کہا کہ یہ مولویوں کا جھگڑا ہے، ورنہ اس میں کوئی حرج نہیں۔ (۴) خطبہ کے پہلے ایک تقریر میں کہا کہ رسول اللہ ایک سیاست باز اور سیاسی لیڈر تھے۔ (۵) قبروں کے بارے میں جب بات چل رہی تھی تو انہوں نے کہا کہ منکرین سجدہ غلط کہتے ہیں، سجدہ بالکل جائز ہے۔ جواباً کسی نے کہا کہ ترمذی شریف میں ہے کہ اگر خدا کے سوا سجدہ کسی پر جائز ہوتا تو میں عورتوں کو اجازت دیتا کہ وہ اپنے اپنے شوہروں کو سجدہ کریں، تو امام مسجد نے کہا کہ ترمذی شریف کی حدیث غلط ہے۔ (1) ایک مرتبہ انہوں نے ایک شاگرد کو قرآن کی تعلیم خود پلنگ پر بیٹھ کر شا گرد کو قر آن سمیت نیچے بٹھا کر دے رہے تھے، جب کسی نے کہا حضرت یہ قرآن کی بے حرمتی ہے تو انہوں نے کہا اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔لہذا شافی جواب دیں کہ ایسے امام مسجد کی اقتدا کی جائے یا نہیں؟ یا یہ بہکا ہوا کوئی شیطان ہے جولوگوں کو ورغلا رہا ہے؟ المستفتی: اصغر علی، کیراف محمد حسین پان شاپ کالا بازار، باور محلہ، بی ایل نمبر ۲۳، پوسٹ جنگت تال مضلع ۲۴ پرگنه
الجواب: سجدہ غیر خدا کو مطلقاً حرام بلکہ بکثرت فقہاء نے سجدہ تعظیمی کو کفر فرمایا ہے جس کی تفصیل "الزبدة الذكية تحريم محمود التحية" مصنفہ اعلی حضرت علیہ الرحمہ میں ہے لہذا سجدہ تعظیمی کو جائز بنانا حکم فقہاء کفر ہے۔ اس شخص پر تو بہ فرض ہے اور تجدید ایمان بھی کرے اور بیوی رکھتا ہو تو تجدید نکاح بھی کرے اور کندھوں سے نیچے بال رکھنا تشبہ بزناں ہے جو بحکم حدیث حرام اور کندھوں تک رکھنا جائز اور درست ہے، اگر وہ پہلی صورت کا مدعی ہے تو مطلقاً مفتری ہے قرآن پر ، اس سے تو بہ فرض ہے جس طرح خلاف شرع وضع کو چھوڑنا اسے لا زم اور حکم شرع کو مولویوں کا جھگڑا بتا نا شرع اور علمائے شرع کی تو ہین ہے جو کفر ہے، اس شخص پر تو بہ وتجدید ایمان فرض ہے اور اس کی اقتدا نادرست جب تک تو بہ وتجدید ایمان نہ کرلے، مسلمانوں پر فرض ہے کہ اسے چھوڑے رہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله