بغیر امام کی اجازت کے امامت اور وعظ و تقریر کا حکم
(۲) بغیر امام کی اجازت کے کوئی شخص نماز پڑھا سکتا ہے یا وعظ و تقریر کر سکتا ہے ( جبکہ امام وہیں موجود ہو ) یا نہیں؟ اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو اسکے لئے کیا وعید ہے؟
الجواب: (1) بلا ضرورت ایسا کرنا مکروہ ہے کہ امام کا مقتدیوں سے اتنی بلندی پر کھڑا ہونا جس سے اس کا مکان ممتاز وجد ا معلوم ہو، ناپسندیدہ ہے۔ درمختار میں ہے: انفراد الامام على الدكان للنهى وقدر الارتفاع بذراع ولا بأس بمادونه وقيل ما يقع به الامتياز وهو الا وجه ذكره الكمال وغيره (1) (۲) مقتدیوں میں اگر کوئی ایسا نہ ہو جسے امامت کیلئے حق تقدم ہو جیسے سلطان اسلام یا والی یا قاضی شرع تو امام ماذون دوسرے سے مطلقا افضل ہے اور اسی کو حق تقدم ہے اسکی اجازت کے بغیر امامت نہ چاہئے خصوصاً جبکہ اسے ایذا ہو تو غیر کا تقدم نا جائز ہے درمختار میں ہے: ،، امام المسجد الراتب اولی بالامامة من غيره مطلقا (۲) رد المحتار میں ہے: ” واما اذا اجتمعوا فالسلطان مقدم ثم الامير ثم القاضي ثم صاحب المنزل ولو مستأجر او كذا يقدم القاضی علی امام المسجد (۳) اور خطیب کی اجازت کے بغیر دوسرے کو تقریر کرنا بھی نہ چاہئے جبکہ وہ خطابت کیلئے مقرر ہو کہ اس جگہ پر خطابت اسکا حق ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله (1) الدر المختار، ج ۲، ص ۴۱۵، کتاب الصلوۃ، باب ما يفسد الصلوة وما يكره فيها، دار الكتب العلمية بيروت (۲) الدر المختار - ج ۲، ص ۲۹۷ ، كتاب الصلوة باب الامامة، دار الكتب العلمية بيروت (۳) رد المحتار ج ۲، ص ۲۹۷، کتاب الصلوۃ، باب الامامة، دار الكتب العلمية بيروت