اذان کے مسئلہ پر امام کو گالی دینے اور جماعت ترک کرنے کا شرعی حکم
ہے زید صرف فجر کی اذان کبھی دیا کرتا تھا اور کبھی نہیں تو ایک دن فجر کی اذان زید کے آنے سے پہلے عمرو نے پڑھ دی کیونکہ وقت ہو گیا تھا تو زید نے یہ اعتراض کیا کہ آپ نے اذان کیوں دی؟ میں ہی پڑھتا ، تو زید نے عمرو کے پیچھے نماز ترک کر دی اور دو دن تک نماز پڑھنی چھوڑ دی اور ساتھ ساتھ عمرو کی شان میں بد الفاظ سے گالی دی اور کہا کہ تمہیں اذان پڑھنا نہیں آتا ہے اور غلاط اذان وقرآن پڑھتے ہو جبکہ عمرہ فارغ شدہ قاری ہیں تو کیا زید کو حق حاصل ہے کہ اذان وہی پڑھے؟ کیا عمرو کے پیچھے نماز ہو جائے گی؟ اور زید شرع کے لحاظ سے فاسق ہے داڑھی کترواتا ہے اور ساتھ ہی ساتھ فلم بھی دیکھتا ہے تو زید کی نماز عمرو کے پیچھے کب اور کس حالت میں ہوگی ؟ صحیح جواب سے مطلع فرما ئیں ۔ بینوا تو جر وا!
الجواب: بے وجہ شرعی مسلمان کو گالی دینا سخت کبیرہ وشدیدہ گناہ ہے۔ حدیث میں ہے: ،، سباب المسلم فسوق وقتاله كفر (۱) مسلمان کو گالی دینا فسق و فجور ہے اور ان سے لڑنا کفر کا شیوہ ہے زید نے امام کو بے وجہ شرعی گالی دی پھر بے وجہ شرعی اس کے پیچھے نماز چھوڑ دی یہ گناہ در گناہ ہوا تو بہ کرے اور امام سے معافی مانگے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ