امام پر بے جا اعتراض کرنا سخت گناہ ہے! امام پر الزام لگانے والا تو بہ کرے!
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ : زید عرصہ دراز تک ایک امام کے پیچھے نماز ادا کر تا رہا۔ اس کے بعد امام پر کچھ اعتراض کیا جس کی اصل اس کے پاس نہیں۔ اس کے اعتراض پر کسی بھی نمازی نے یقین نہیں کیا اور وہ بغیر ثبوت دیئے امام کے پیچھے نماز ادا کرنا چھوڑ دیا۔ اس پر کسی نے اس سے پوچھا کہ آپ امام صاحب کے پیچھے نماز کیوں نہیں پڑھتے ؟ تو وہ جواب دیا میری بات انہوں نے نہیں چلنے دی اسلئے میں ان کے پیچھے نماز نہیں پڑھوں گا اب وہ ایسا کرتا ہے کہ جماعت ہوتی ہے اگر وہ آجاتا ہے تو امام کے سلام پھیرنے کا انتظار کرتارہتا ہے جب امام صاحب سلام پھیرتے ہیں تو وہ نیت کر لیتا ہے۔ اب اس شخص کے اوپر شریعت مطہرہ کا کیا حکم ہوگا ؟ المستفتی: محمد توحید الحق اشرفی ، پورنیہ بہار
الجواب: صورت مسئولہ سے صاف ظاہر ہے کہ زید اس امام کے پیچھے نماز پڑھنے سے بے وجہ شرعی باز رہتا ہے اگر یہ واقعہ ہے تو زید تارک جماعت ہے اور سخت گنہگا رمستوجب نار ہے اور امام پر بے ثبوت شرعی الزام لگانا بھی اسے روا نہیں تو بہ کرے ورنہ ہر واقف حال مسلم اسے چھوڑ دے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ