فاسق معلن کی اقتدا اور ایسی صورت میں تنہا نماز پڑھنے کا حکم
سوال
(1) مغرب کی نماز میں پانچ چھ آدمی موجود ہیں امام نہیں ان آدمیوں میں جو نماز پڑھا سکتا ہے وہ فاسق ہے جس کے پیچھے نماز مکروہ ہے تو اب نماز اپنی اپنی پڑھی جائے یا کہ فاسق کہ پیچھے پڑھ سکتے ہیں؟ (۲) زید امام ہے مگر اس کے اندر وہ خرابی ہے جس سے نماز واجب الاعادہ ہے پڑھنی گناہ اگر پڑھی جائے تو دہرانا واجب ۔ اب بکر اپنی نماز گھر پڑھ لیتا ہے اس میں کوئی حرج تو نہیں ہے؟
الجواببِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّاب
الجواب: امستفتی: مولانا شمشاداحمد پدارتھپور ضلع بریلی شریف (۲،۱) فاسق معلن کی اقتد اممنوع و گناہ ہے غنیتہ میں فتاوی حجہ سے ہے: لوقدموا فاسقايأثمون“(۲) لہذا وہ لوگ اپنی اپنی نماز بے جماعت پڑھیں اور اگر کوئی جامع شرائط امامت پائیں تو اس کو امام بنا ئیں اور مسجد کی حاضری نہ چھوڑیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۳۰ رشوال المکرم ۱۴۰۴ھ
دار الافتاءبریلی
کتبہ: حضور تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خان قادری ازہری
صدر مفتیِ ہند، دار الافتاء بریلی
مأخذ: فتاویٰ تاج الشریعہ، جلد ۴ · صفحہ ۱۴۶
اسی باب کے متعلقہ فتاویٰ
منکوحہ غیر کا دانستہ دوسرے سے نکاح پڑھانے والے امام کے پیچھے نماز کا حکم
باب: کتاب الصلوٰۃ
ضامین کو عالین یا والین پڑھنے والے کے پیچھے نماز جائز نہیں افاتحہ عمل خیر ہے! فاتحہ کو بُرا جاننے والے کی امامت درست نہیں !
باب: کتاب الصلوٰۃ
مسجد کے متولی کے اختیارات اور امام کی برخواستگی و تقرر کا شرعی حکم
باب: کتاب الصلوٰۃ
امام پر بے جا اعتراض کرنا سخت گناہ ہے! امام پر الزام لگانے والا تو بہ کرے!
باب: کتاب الصلوٰۃ
سنت مؤکدہ کے تارک اور فاسق معلن کی امامت کا حکم اور جمعہ کی سنتوں کے ترک کا اثر
باب: کتاب الصلوٰۃ