سنت مؤکدہ کے تارک اور فاسق معلن کی امامت کا حکم اور جمعہ کی سنتوں کے ترک کا اثر
(۱) زید سنت مؤکدہ کا قصداً تارک ہے اور امامت کے مصلے پر کھڑا ہوتا ہے۔سوال اینکہ زید کے پیچھے نماز پڑھنا اور زید کو نماز پڑھانا جائز ہے کہ نہیں ؟ کتاب وسنت کی روشنی میں تحریر کریں۔ (۲) بکر متواتر بروز جمعہ وہ سنت جو جمعہ سے پیشتر ہے، اس کو ترک کر کے تقریر کے لئے کھڑے ہو جاتے ہیں بعدہ منبر پر بیٹھ کر خطبہ پڑھتے ہیں بعدہ نماز جمعہ فرض ادا کرتے ہیں اور تمام مقتدیوں کو ادا کراتے ہیں۔ عمرو نے یہ حرکت دیکھ کر بعد سلام کے ان سے کہا کہ نماز نہیں ہوئی کہ آپ نے فرض سے قبل جو سنت ہے، ادا نہیں کی ہے تو اس پر بکر نے جواب دیا کہ نماز ہوگئی۔ سوال اینکہ بکر صاحب کا یہ جواب دینا درست ہے یا نہیں؟
(۱، ۲) سنت مؤکدہ کا ترک موجب اساءت و ملامت ہے اور اس کے ترک کی عادت گناہ ہے اور جمعہ سے پیشتر بھی نماز سنت مؤکدہ ہے جس کے متعلق شرعی طور پر ثابت و مشتہر ہو کہ وہ ترک سنت مؤکدہ کا عادی ہے وہ فاسق معلن ہے، اسے امام بنانا گناہ ہے اور اس کی اقتداء میں نماز مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہے جمعہ میں بھی ایسے شخص کی اقتدا مکروہ تحریمی ہے جبکہ کسی لائق امامت کے پیچھے اقتدا ممکن ہو ورنہ نماز بلا کراہت ہو جائے گی اور فاسق کے پیچھے بکراہت نماز درست ہے لہذا جمعہ کی نماز ہوگئی ، بکر کا قول درست ہے لیکن اگر دوسرے امام غیر فاسق کے پیچھے جمع مل سکتا تھا تو فاسق کی اقتدا حلال نہ تھی ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صح الجواب ۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی ۲۰ ؍ ربیع الاول ۱۴۰۸ھ