شادی کرنا گناہ سے بچاؤ کی تدبیر ہے اور امام کی امامت پر اس کے اثرات
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ: زید ایک نو جوان کنوارا عالم وحکیم ہے اور اپنے ہی موضع میں پیش امام بھی ہے۔ پچھلے چند ماہ ہوئے زید نے ایک کنواری لڑکی ثریا کا علاج کیا جو کافی عرصہ چلا، اسی دوران میں زید اور نثریا کا آپس میں رومان بھی چلنے لگا اور کافی پرواز کر گیا بلکہ محلہ و گاؤں میں کچھ افواہیں بھی نازیبا ( جھوٹ و سیچ ) اڑنے لگیں۔ زید نے ثریا کے ساتھ اپنی شادی کرنے کا اعلان کر دیا، زید کے والدین اس رشتہ کے خلاف تھے۔ ایک روز زید نے والدین کی مرضی کے خلاف ان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے خود تاریخ شادی بھی متعین کر لی اور شادی وقت پر کر لی۔ محلہ کے لوگوں نے زید کے والد کو جیوں نیوں نکاح کے وقت شریک بھی کر دیا جو دل پر پتھر رکھ کر شریک ہوئے۔ اب دریافت طلب یہ ہے کہ ایسی صورت میں زید کے پیچھے نماز پڑھنے سے ہم لوگوں کی نماز ہوگی یا نہیں؟ اور کیا زید کوامام بنانا جائز ہے یا نہیں؟ المستفتی: یعقوب بیگ، امرها، بلاک کینٹ ضلع شاہجہانپور
الجواب: شادی کرنا گناہ نہیں بلکہ گناہ سے بچاؤ کی تدبیر ہے لہذا امام کی امامت اس وجہ سے مکروہ وممنوع نہ ہوگی اور اس کی اقتداء جائز ہے جبکہ شرائط امامت کا جامع ہو۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۱ار جمادی الاولی ۱۴۰۲ھ