مسبوق کا امام کے ساتھ غلطی سے سلام پھیرنا اور سجدہ سہو کرنا
سوال
مسبوق نے امام کے ساتھ سلام پھیر دیا، اخیر میں سجدہ سہو کیا تو نماز ہوئی یا نہیں؟ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ: ایک مقتدی نماز عصر میں دو رکعت گزر جانے کے بعد امام کے پیچھے جماعت میں شریک ہوا، پیش امام صاحب نے چار رکعت فرض پڑھا کر سلام پھیرا ، اب اس مقتدی نے غلطی سے امام صاحب کے ساتھ سلام پھیرا اور بعد میں اسے خیال آیا کہ میں نے جماعت کے ساتھ دو رکعت پڑھی ہے، دورکعت ابھی میرے ذمہ باقی ہے۔ بعد میں دورکعت کھڑے ہو کر پڑھنے کے بعد اس مقتدی نے سجدہ سہو کرلیا۔ اب سوال یہ ہے کہ اس صورت میں اس مقتدی کی نماز عصر ادا ہو گئی یا پھر سے دوہرا کر چار رکعت اسے پڑھنی پڑے گی ؟ براہ مہربانی جواب با تفصیل تحریر فرما ہیے۔ معین نوازش ہوگی
الجواببِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّاب
الجواب: نماز ہوگئی۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله
دار الافتاءبریلی
کتبہ: حضور تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خان قادری ازہری
صدر مفتیِ ہند، دار الافتاء بریلی
مأخذ: فتاویٰ تاج الشریعہ، جلد ۴ · صفحہ ۱۴۰
اسی باب کے متعلقہ فتاویٰ
دھاتی چین والی گھڑی پہننے اور اس کے عادی کی امامت کا شرعی حکم
باب: کتاب الصلوٰۃ
حالت جنابت میں نماز پڑھنے والے امام کا حکم اور نماز کی حیثیت
باب: کتاب الصلوٰۃ
جھوٹ اور غیبت کرنے والے فاسق معلن کے پیچھے نماز اور امامت کا حکم
باب: کتاب الصلوٰۃ
شادی کرنا گناہ سے بچاؤ کی تدبیر ہے اور امام کی امامت پر اس کے اثرات
باب: کتاب الصلوٰۃ
جو لوگوں کی داڑھی بناتا ( کاتا) ہے، اس کی امامت کا حکم
باب: کتاب الصلوٰۃ