جو لوگوں کی داڑھی بناتا ( کاتا) ہے، اس کی امامت کا حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ: ایک شخص قرآن عظیم پڑھا ہوا ہے، داڑھی بھی ہے، نماز پنجگانہ بھی ادا کرتا ہے، اس کا کاروبار بالوری ( ہیئر کنگ سیلون )، شیونگ کرنا ، داڑھی مونڈھتا ہے۔ کیا ایسے شخص کے پیچھے نماز ہو جائے گی ؟ اور اس کی کہی ہوئی اذان دہرانے کے لائق ہے یا نہیں؟ علاوہ اس کے اگر اس شخص کی طرفداری کچھ مقتدی کریں تو یہ فعل صحیح ہے یا نہیں ؟ اگر امام صاحب یہ سب کچھ دیکھ کر بھی آنکھ بچائیں یا طرفداری کریں صحیح ہے؟ جبکہ فاسق کی اذان دہرانے کے لائق ہے، نماز تو اول وافضل فریضہ ہے۔ صاف صاف تحریر فرما کر بدگمانی کو دور فرما ئیں اور مہر ثبت فرمادیں۔ عنایت و کرم ہو گا ! المستفتی: عبد اللطیف قادی نوری ، محلہ ر بڑی ٹولہ، پرانہ شہر، بریلی شریف (یوپی)
الجواب: بر تقدیر صدق سوال وہ شخص فاسق معلن ہے، اس کی امامت مکروہ تحریمی اور اس کے پیچھے نماز واجب الاعادہ ہے، اور اس کی اذان بھی مکروہ اور قابل اعادہ ، جو لوگ اس کے حامی ہیں سخت گنہ گار ہیں، ان سب پر معہ اس شخص کے تو بہ لازم ہے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۱۳ ؍ ربیع الاول ۱۴۰۷ھ