دھاتی چین والی گھڑی پہننے اور اس کے عادی کی امامت کا شرعی حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین ان مسائل میں کہ: (1) دھات کی چین والی گھڑی باندھے ہوئے نماز پڑھنا کیسا ہے؟ (۲) نماز کے باہر ہاتھ میں چین دار گھڑی باندھنا جائز ہے یا ممنوع ؟ (۳) جو شخص چین دار گھڑی استعمال کرنے کا عادی ہو، اس کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے یا مکروہ تحریمی؟ المستفتی : عبدالحمید قادری رضوی، مدرسه خوشیه، بڑھیا ضلع بستی (یوپی)
چین والی گھڑی پہن کر نماز مکروہ تحریمی ہے !الو ہے، تانبے، پیتل اور شیشہ کی انگوٹھی مردوں کیلئے مکروہ ہے ا بیرون نماز بھی چین دار گھڑی پہنا ممنوع ہے ! چین باندھنے کا عادی امامت نہیں کر سکتا ! الجواب: (1) مکروہ تحریمی ہے۔ جو ہرہ نیرہ میں خجندی سے ہے: ،، التختم بالحديد والصفر والنحاس والرصاص مكروه للرجال والنساء (۲) ،، در مختار میں ہے : كل صلاۃ ادیت مع كراهة التحريم تجب اعادتها (۳) (۲) ممنوع ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) چین باندھنے کا عادی فاسق معلن ہے، اسے امام بنانا گناہ اور اس کی اقتدا مکروہ تحریمی اور نماز واجب الاعادہ ہے۔ غنیہ میں ہے: لوقدموا فاسقاياثمون بناء على ان كراهة تقديمه كراهة تحريم () واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۱۹ ؍ ربیع الآخر ۱۳۹۵ھ