حالت جنابت میں نماز پڑھنے والے امام کا حکم اور نماز کی حیثیت
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ کے بارے میں کہ: زید جو مسجد کے امام ہیں انہوں نے حالت جنابت میں یعنی اس کے کپڑے میں منی کا گیلا داغ تھا اور جسم میں بھی نجاست تھی انہوں نے بغیر نسل کے صرف کپڑا بدل کر وضو کر کے نماز پڑھادی کیا ایسی صورت میں نماز ہو جائے گی یا نہیں ؟ از روئے شرع جواب عنایت فرمائیں۔ المستفتی: محمد عبد الوہاب ، محلہ مراد پورہ گڑھی بریلی شریف
الجواب: نماز نہ ہوئی اور ایسا امام سخت فاسق نالائق امامت ہے۔ فتاویٰ خانیہ میں ہے: اما اذا صلى بغير الطهارة متعمدا فانه يصير كافراً وقال شمس الائمة الحلواني رحمه الله تعالى يكون زنديقا لان احدالم يجوز الصلاة بغير طهارة فيكون استخفافابالله تعالى(۱) (1) فتاوی قاضی خان ، ج ۱، ص ۴۷، کتاب الصلوة باب الاذان ، دار الفکر بيروت لہذا امام پر ضروری ہے کہ تو بہ واستغفار کرے اور احتیاطاً تجدید ایمان بھی کرے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله