جھوٹ اور غیبت کرنے والے فاسق معلن کے پیچھے نماز اور امامت کا حکم
جس کا جھوٹ بولنا اور غیبت کرنا مشہور ہو، وہ فاسق معلن ہے، اس کو امام بنانا گناہ ہے! کراہت تحریمی کے ساتھ ادا کی گئی نماز کا اعادہ واجب ہے! کیا فرماتے ہیں مفتیان اہلسنت و جماعت اس مسئلہ میں کہ: ایک حافظ قرآن ہے، اردو بازار میں سلائی کی دکان بھی ہے اور جھوٹ اور غیبت بھی زیادہ کرتا ہے۔ ایسے شخص کے پیچھے نماز جائز ہے یا نہیں؟ ایسے شخص کو امام بنانا کیسا ہے؟ اس بارے میں باحوالہ حدیث یا قرآن سے آگاہ فرمائیں، آپ کی بڑی مہربانی اور عنایت ہوگی۔ فقط والسلام
الجواب: لمستفتی: فقیرمحمد مومن، نیشوال ضلع بدایوں، راجستھان جھوٹ اور غیبت کبیرہ گناہ ہیں۔ شخص مذکور اگر معائب مذکورہ سے مشہور بین الناس ہے تو فاسق معلن ہے، اس کی افتد امکروہ تحریمی اور نماز واجب الاعادہ ہے اور اُسے امام کرنا گناہ۔ غنیہ میں ہے: ”لو قدموا فاسقاياثمون (1) غنية المستملى شرح منیۃ المصلی، ص ۵۱۳ ، فصل فی الامامة، مطبع سهیل اکیڈمی در مختار میں ہے: ،، كل صلاة اديت مع كراهة التحريم تجب اعادتها ) واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله