منکوحہ غیر کا دانستہ دوسرے سے نکاح پڑھانے والے امام کے پیچھے نماز کا حکم
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ: ایک امام صاحب نے ایک منکوحہ عورت کا بنا طلاق و عدت ایک شخص سے نکاح پڑھا دیا اور کافی روپیہ لے لیا۔ ایسے امام کے پیچھے نماز ہو سکتی ہے یا نہیں اور وہ امامت کے لائق ہے شریعت مطہرہ کا اس م کیلئے کیا عظم ہے از روئے شریعت جواب مرحمت فرما ہیں۔
الجواببِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّاب
الجواب: مسلطانی: صفدر پردھان بجد تحصیل سوار ضلع بلرامپور اگر یہ واقعہ ہے کہ اس شخص نے دانستہ منکوحہ کا نکاح دوسرے مرد سے پڑھا دیا تو وہ شخص سخت گنہگار ومستوجب ناراس پر جو روپیہ اس نے لیا حرام ہے۔ اس پر فرض ہے کہ روپیہ واپس کرے اور تو بہ صحیحہ کرے جب اس کا صلاح حال ظاہر ہو جائے گا وہ لائق امامت ہوگا۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں قادری ازہری غفرلہ القوی ۱۱؍ ربیع الاول ۱۴۰۸ھ
دار الافتاءبریلی
کتبہ: حضور تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خان قادری ازہری
صدر مفتیِ ہند، دار الافتاء بریلی
مأخذ: فتاویٰ تاج الشریعہ، جلد ۴ · صفحہ ۱۴۵
اسی باب کے متعلقہ فتاویٰ
مسجد کے متولی کے اختیارات اور امام کی برخواستگی و تقرر کا شرعی حکم
باب: کتاب الصلوٰۃ
فاسق معلن کی اقتدا اور ایسی صورت میں تنہا نماز پڑھنے کا حکم
باب: کتاب الصلوٰۃ
سنت مؤکدہ کے تارک اور فاسق معلن کی امامت کا حکم اور جمعہ کی سنتوں کے ترک کا اثر
باب: کتاب الصلوٰۃ
ضامین کو عالین یا والین پڑھنے والے کے پیچھے نماز جائز نہیں افاتحہ عمل خیر ہے! فاتحہ کو بُرا جاننے والے کی امامت درست نہیں !
باب: کتاب الصلوٰۃ
شادی کرنا گناہ سے بچاؤ کی تدبیر ہے اور امام کی امامت پر اس کے اثرات
باب: کتاب الصلوٰۃ