بے وجہ شرعی کسی کو طلاق پر مجبور کرنا سخت ظلم ہے، ایسے شخص کو امام نہ بنایا جائے!
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ: (۱) زید امامت کرتا ہے اور اپنی ہمشیرہ کا طلاق اپنے بہنوئی سے زبردستی لے لیا ہے۔ اس کے پیچھے نماز پڑھنا درست ہے یا نہیں؟ براہ کرم جواب قرآن وحدیث کے ذریعہ مطلع فرما ئیں۔ جوابی لفافہ حاضر خدمت ہے۔ المستلفنی : قادر بخش ، بلاسپور
الجواب: بے وجہ شرعی اگر امام مذکور نے اپنے بہنوئی کو طلاق پر مجبور کیا تو سخت ظالم جفا کا مستحق مغضب جبار و عذاب نار ہے۔ اس پر تو بہ لازم ہے۔ بے تو بہ اسے امام بنانا گناہ ہے اور اس کی اقتدا میں نماز مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہے۔ غنیہ میں میں ہے: لوقدموا فاسقاياثمون (1) در مختار میں ہے: كل صلاة اديت مع كراهة التحريم تجب اعادتها “(۲) (۱) غنية المستملى شرح منية المصلی، ص ۵۱۳، فصل فی الامامة، مطبع سهیل اکیڈمی (۲) الدر المختار، ج ۲، ص ۱۴۷ ، ۱۴۸، کتاب الصلوۃ، باب صفة الصلوة، مطبع دار الكتب العلمية، بيروت اور اگر وجہ شرعی کی بنا پر جبر کیا تو اس پر الزام نہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم