فجر کے بعد نوافل کی ممانعت، خطبہ جمعہ کی زبان اور دیگر فقہی مسائل کا بیان
(۸) کوئی شخص نماز عصریا نماز فجر پڑھنے کے بعد تلاوت قرآن کرنے لگا، آیت سجدہ پڑھی گئی سجدہ کریگا؟ (۹) کوئی شخص تہبند کے اندر بے لنگوٹ یا بے چڑی کے پہنے نماز پڑھ سکتا ہے؟ فقط المستفتی : برکت علی گلاب پوروی (امام مسجد حنفیه )
الجواب: مقام و پوسٹ گلاب پوره محله تیلی پاژو ضلع بھیلواژه ( راجستهان) (1) صبح صادق کے طلوع سے پہلے نوافل پڑھ سکتا ہے اور جب صبح صادق طلوع ہو جائے تو سنت فجر کے سوا کوئی نفل پڑھنا مکروہ تحریمی و خلاف سنت ہے اور حضور اقدس علیہ السلام نے اس سے ممانعت فرمائی ہے۔ تبیین شرح کنز میں ہے: يكره ان يتطوع بعد ما طلع الفجر قبل الفرض باكثر من سنة الفجر لقوله عليه الصلاة والسلام ليبلغ شاهد كم غائبكم الا لا صلاة بعد الصبح الاركعتين رواہ احمد وابو داؤد و قال عليه الصلاة و السلام اذا طلع الفجر لا صلاة الاركعتين رواه الطبرانی و قالت حفصة رضى الله عنها كان رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم اذا طلع الفجر لا يصلى الاركعتين خفیفتین رواه مسلم وعن ابن عمر (رضى الله عنهما ) انه عليه الصلاة والسلام قال اذا طلع الفجر فلاتصلوا الاركعتي الفجر رواه الطبرانی بصيغة النهی ) واللہ تعالیٰ اعلم (۲) چھ روزہ بعد رمضان رکھ کر عید پڑھنے کا کیا معنی؟ اور نماز عید کا اعادہ نہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) خطبہ سے پہلے کہ خطبہ خالص عربی میں سنت متوارثہ ہے اور خطبہ میں دوسری زبان ملانا مکروہ و خلاف سنت ہے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۴) سنت ہے مگر غیر مؤکدہ اور اس پر نفل کا بھی اطلاق ہوتا ہے اور کوئی تعداد معین نہیں۔ البتہ دو رکعت سے کم نہ ہو اور افضل یہ ہے کہ چار رکعت ایک سلام سے پڑھے، یہ ہمارے امام اعظم کا مذہب ہے۔ کنز وزیعی میں ہے: (1) و الافضل فيها رباع اى الافضل في الليل والنهار اربع اربع وهذا عند ابي تبيین الحقائق شرح كنز الدقائق ، ج ۱، ص ۲۳۴، کتاب الصلوة دار الكتب العلمية بيروت حنيفة-الخ ) واللہ تعالیٰ اعلم (۵) خارج مسجد خطیب کے سامنے ، خاص موضع صلاۃ میں کوئی اذان ہو، مکروہ ہے۔ خانیہ میں ہے : لا يؤذن فی المسجد‘ طحطاوی میں ہے: ”یکرہ ان یؤذن فی المسجد واللہ تعالیٰ اعلم (6) مسلمانوں کی عادت قدیمہ زمان نبوت سے ہے۔ حدیث میں ہے: فرق ما بيننا و بین المشرکین العمائم علی القلانس ہمارے اور بت پرستوں کے درمیان فرق یہ ہے کہ ہمارے عمامے ٹوپیوں پر ہوتے ہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۷) جہاں خاص مشرکہ عورتوں کا لباس نہ ہو وہاں اجازت ہے اور جہاں خاص لباس مشرکات ہو وہاں منع ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۸) ہاں، کنز میں ہے: وو و عن التنفل بعد صلاة الفجر والعصر لا عن قضاء فائتة وسجدة تلاوة وصلاة جنازة اس کی شرح زیلعی میں ہے: أى نهى عن التنفل في هذين الوقتين و لم يمنع عن اداء الواجبات التي ذكرها حاشیہ شلبی میں ہے: قوله (ولم يمنع عن اداء الواجبات) وفى المجتبى: الاصل ان ما يتوقف وجوبه على فعله كالمنذور وقضاء التطوع الذي افسده وركعتي الطوف وسجدة السهو ونحوها تبيين الحقائق شرح کنز الدقائق، ج ۱، ص ۴۳۰، کتاب الصلوة ، باب الاذان، دار الكتب العلمية بيروت فتاوی قاضی خان ، ج ۱، ص ۵۱ کتاب الصلوة ، باب الاذان ، دار الكتب العلمية بيروت طحطاوي على مراقی الفلاح كتاب الصلوۃ ، باب الاذان ، ص ۱۹۷ ، دار الكتب العلمية بيروت سنن ابی دائود، ج ۲، ص ۵۶۴، کتاب اللباس، باب فی العمائم، مطبع اصح المطابع كنز الدقائق في فقه السادات الاحناف ، كتاب الصلوة ص ٩ ، المكتبة الازهرية للتراث تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق، ج ۱، ص ۲۳۲، کتاب الصلوة، دار الكتب العلمية بيروت لا يجوز ومالا يتوقف عليه كسجدة التلاوة وصلاة الجنازة يجوز - اه (1) مگر جب که طلوع و غروب سے پہلے آیت سجدہ پڑھی تو ضرور ہے کہ طلوع و غروب سے پہلے سجدہ کرے، ورنہ سجدہ ادا نہ ہوگا۔ زیلعی میں ہے: ،، لانها وجبت كاملة فلاتتأدى بالناقص (۲) اور اگر طلوع و غروب کے وقت آیت سجدہ پڑھی اور سجدہ تلاوت ادا کیا تو ہو گیا مگر افضل یہ ہے کہ ان دونوں وقتوں کے بعد سجدہ کرے، اسی میں ہے: اما اذا تلاها فيها جاز اداؤها فيها من غير كراهة، لكن الافضل تاخيرها ليؤديها في الوقت المستحب لانها لاتفوت بالتاخير بخلاف العصر (۳) واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ صبح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی ۲۹ رشوال المکرم ۱۴۰۰ھ معصیت کا اظہار معصیت ہے اور اس کا حکم دینا گناہ! امام کی قرآت بحکم حدیث مقتدی کی قرآت کے قائم مقام ہے! طلوع و غروب کے وقت سجدہ تلاوت کرنے سے ادا ہو جائے گا، دوبارہ ادا کرنا افضل ہے!